BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 August, 2007, 08:03 GMT 13:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میرا جہیز اور ارمان بھی بہہ گئے‘

دلہن شائستہ
بلوچ رسم ہے کہ مایوں بیٹھنے والی لڑکی شادی تک والدین کے سامنے بھی نقاب نہیں ہٹاتی: زیبا
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت میں آنے والے شدید سیلاب سے متاثرہ پندرہ سالہ شائستہ بلوچ کہتی ہیں کہ سیلاب میں جہاں ان کا مکان منہدم ہوا وہاں ان کے جہیز اور ارمان بھی اس میں بہہ گئے۔

’میری شادی جولائی میں طے تھی لیکن سیلاب نے سب کچھ برباد کردیا اور ہم جان بچا کر کھلے آسمان تلے، تپتی دھوپ میں خدا کے سہارے زندگی بسر کر رہے ہیں۔‘

شائستہ بلوچ گیبُن کے علاقے میں قائم خیمہ بستی کے نزد ایک کچے کمرے میں سخت گرمی میں کپڑا ٹانگ کر خود کو چھپاکر مایوں بیٹھی ہیں اور بلوچ روایات کے مطابق چہرہ بھی ڈھانپا ہوا ہے۔

ان سے کافی اصرار کیا کہ وہ چہرے سے پردہ ہٹائیں لیکن وہ نہ مانیں اور ان کی والدہ زیبا بلوچ نے بتایا کہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ ’ہماری بلوچ رسم ہے کہ ایک دفعہ جُل یعنی مایوں بیٹھنے والی لڑکی شادی تک والدین کے سامنے بھی نقاب نہیں ہٹاتیں۔

زیبا بلوچ نے بتایا کہ لڑکے والے کہتے ہیں کہ جلدی جلدی شادی کریں کیونکہ ان کے ہونے والے داماد مختار بلوچ کو دبئی جانا ہے۔

زیبا بلوچ
ہم نے قرضہ لے کر چند جوڑے اور کچھ زیور خریدے ہیں: زیبا بلوچ
’ہم نے ان سے کہا کہ سیلاب میں ہمارا سب کچھ تباہ ہوگیا ہے کچھ وقت دے دو لیکن دولہے والے نہیں مانتے اور ہم نے قرضہ لے کر چند جوڑے اور کچھ زیور خریدے ہیں۔‘

ایک درجن کے قریب بکریاں بھی ان کے خیمے کے ساتھ کھڑی تھیں اور زیبا بلوچ نے بتایا کہ شائستہ یہ بکریاں چراتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ اکتیس اگست کو بارات آنی ہے اور تین روز دولہا ہمارے خیمے میں رہے گا اور بعد میں شائستہ کو لے جائے گا۔

’ہماری رسم ہے کہ شادی کے بعد تین روز تک دولہا سسرال میں رہتا ہے تمہاری رسم کی طرح نہیں ہوتا کہ بس دولہا آیا سہاگ رات منائی اور صبح لڑکی لے گیا۔‘

اس دوران شائستہ کی کچھ رشتہ دار اور ہم عمر لڑکیاں بھی وہاں پہنچ گئیں اور انہوں نے شائستہ کو چھیڑنا شروع کردیا۔ جس پر زیبا بلوچ نے اپنی گرجدار آواز میں انہیں بلوچی زبان میں کچھ کہا اور وہ بھاگ گئیں۔

شائستہ کی والدہ کا ماننا ہے کہ سیلاب کی سختیوں، پریشانیوں اور دکھوں کی گھڑی میں یہ شادی ان کے لیے خوشی کا ایک جھونکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد