بلوچستان میں سیلاب، تباہ کاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طغیانی اور سیلاب سے سبی کی تین تحصیلیں لہڑی سبی اور ہرنائی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ سبی کے ایک گاؤں میں مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتون ہلاک اور اس کا شوہر زخمی ہوا ہے۔ سبی اور بولان میں سیکڑوں دیہاتوں کو زمینی رابطہ صوبے کے دیگر علاقوں سے کٹ چکا ہے جبکہ مارگٹ میں بڑی تعداد میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدور اسی علاقے میں پھنس گئے ہیں۔ سبی کے ضلعی ناظم علی مردان ڈومکی نے کہا ہے کہ سینکڑوں دیہات زیر آب آگئے ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سڑکیں بہہ جانے کی وجہ سے امدادی کارروائیاں شروع نہیں کی جا سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک خاتون کی ہلاکت اور ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے باقی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے جانی نقصان کی بارے میں معلومات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ سبی میں مل گشکوری، ناڑی گاٹھ اور تلی کا علاقوں میں کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ ان علاقوں میں سیکڑوں مکان گر گئے ہیں۔ ادھر ضلع بولان کے علاقے مارگٹ میں بیس کے لگ بھگ کوئلے کی کانیں ہیں جہاں ہزاروں مزدور کام کرتے ہیں۔ سیلابی ریلوں سے اس علاقے میں بھی سڑکیں بہہ گئی ہیں اور مارگٹ کا رابطہ صوبے کے دیگر علاقوں سے کٹ گیا ہے۔ ایک کوئلے کی کان کے مالک بابو رفیق نے بتایا ہے کہ اپنے طور پر سڑک کھولنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اب چھوٹی گاڑیاں گزر سکتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مزدور اپنے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان سے رابطہ نہیں ہو سکتا۔ انھوں نے کہا کہ کوئلے کی کانوں میں پانی نہیں گیا ہے اور اب تک کسی مزدور کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان: درجنوں دیہات زیرِ آب07 August, 2006 | پاکستان مردان: چالیس لاشیں نکال لی گئیں06 August, 2006 | پاکستان سیلابی ریلے میں پانچ بچے ڈوب گئے30 June, 2006 | پاکستان چارسدہ میں سیلاب سے تباہی28 July, 2006 | پاکستان دریا میں بہہ کر 10 ہلاک04 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||