چارسدہ میں سیلاب سے تباہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع چارسدہ میں طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلے نے درجنوں دیہات کو نقصان پہنچایا ہے۔ دو افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ سیلاب سے کھڑی فصلوں اور شاہراہوں کو بھی وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ پشاور سے تیس کلومیٹر دور ضلع چارسدہ جاتے ہوئے راستے میں جگہ جگہ پانی ہی پانی دکھائی دیتا ہے۔ کھیتوں، سڑکوں اور کچے راستوں پر ہر جگہ سیلابی پانی نے تباہی مچائی رکھی ہے۔ چارسدہ بازار سے نکل کر عمرزئی اور ترنگزئی کے علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی سے کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا ہے۔ رجڑ، عمرزئی اورترنگزئی روڈ پر سڑک کی دونوں جانب ہر طرف گرے ہوئے مکانات نظر آتے ہیں۔ بعض علاقوں میں تو ٹوٹے ہوئے مکانات بمباری جیسا منظر پیش کر رہے ہیں۔ جو علاقے حالیہ بارشوں اور سیلابی ریلے سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ان میں ترنگزئی، عمر زئی، اتمانزئی، میرہ عمر زئی، پلے کورونہ، امیرآباد اور ڈھکی شامل ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں، خیراتی اداروں اور مقامی لوگوں نے سڑک کنارے امدادی کیمپ لگا رکھے ہیں اور متاثرہ لوگوں کے بحالی کے لئےامداد اکٹھی کی جا رہی ہے۔ کئی کیمپ ایسے بھی تھے جن سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ یہ سیاسی دوکان چمکانے کے لئے لگائے گئے ہیں۔ جن لوگوں کے مکان منہدم ہوئے ہیں وہ اپنی طور پر ان کو دوبارہ تعمیر کرنے میں مصروف ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے تاحال تعمیر نو کا عمل شروع نہیں ہوا ہے۔ عمرزئی گاؤں کے ایک معمر شخص زین اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سیلاب اتنا اچانک آیا کہ لوگوں کو بالکل پتہ ہی نہیں چلا ۔ اچھا ہوا کہ یہ دن کے وقت آیا اگر یہ رات کو آتا تو پھر بڑا جانی نقصان بھی ہوسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’جس دن سیلاب آیا اسی صبح سویرے وہ نماز پڑھ کر مسجد سےگھر آ رہا تھا۔ دیکھا تو گھر کے باہر نالے میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہورہی تھی۔ بس پھر کیا تھا منٹوں میں پانی میرے مکان کے اندر داخل ہوگیا اور گاؤں میں ہر مکان سے چیخ وپکار کی آوازیں آناشروع ہوئیں۔‘ کئی مقامات پر لوگوں کے مکانات پانی میں بہہ جانےکی وجہ سے وہ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ مقامی انتظامیہ، ضلعی حکومت اور عوامی نمائندوں کے مابین رابطے کے فقدان کے باعث متاثرہ لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کو امداد وقت پر نہیں مل رہی۔ صوبائی حکومت نےمتاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لئے فی الحال بیس لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے جو مقامی لوگوں کے مطابق آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ضلعی رابطہ افسر کے سرکاری بنگلے میں امدادی سامان جمع کرکے متاثرہ علاقوں میں پہنچایا جا رہا ہے۔ان میں خیمے، آٹا، گھی اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء شامل ہیں۔ ضلع چارسدہ سے صوبائی اسمبلی کے رکن عالم زیب عمرزئی نے شکایت کی کہ امدادی سامان دو دن پہلے پہنچا ہے لیکن انتظامیہ اسے آج متاثرہ لوگوں میں تقسیم کر رہی ہے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگ مشکل میں ہیں ان کو فوری امداد کی ضرورت ہے لیکن افسوس کہ چارسدہ کے سیاستدان اور انتظامیہ ابھی بھی سیاست کر رہی ہے۔ ’ہر کوئی کریڈٹ لینا چاہتا ہے۔‘ دوسری طرف حکومت کا موقف ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں اور آئندہ چند روز تک حالات مزید معمول پر آ جائیں گے۔ ضلع چارسدہ کے نائب ضلعی رابطہ افسر نعیم خان نے بتایا کہ سیلابی ریلے نے اب تک سولہ سو سے زائد مکانات کو نقصان پہنچایا ہے اور اس میں دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقے میں ہنگامی مراکز قائم کیئے گئے ہیں اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ نعیم خان کا کہنا تھا کہ اب تک سینکڑوں افراد کو سیلابی ریلے سے نکالا گیا ہے اور اس بابت فوج کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔ | اسی بارے میں کالام: امداد کی فوری ضرورت06 July, 2006 | پاکستان لاہور میں بارش، چھ ہلاک 25 July, 2006 | پاکستان پنجاب میں بارشوں سے پچیس ہلاک 14 July, 2006 | پاکستان برساتی نالے میں طغیانی، سترہ ہلاک04 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||