کالام: امداد کی فوری ضرورت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دور افتادہ پہاڑی تفریحی مقام کالام کے مضافات میں ایک گاؤں میں گزشتہ دنوں سیلاب اور پہاڑی تودہ گرنے سے سترہ افراد ہلاک ہوئے تاہم جو بچ گئے وہ اب بےگھر ہیں اور بے سروسامانی کی حالت میں حکومت کی مدد کے منتظر ہیں۔ کالام سے تین کلومیٹر دور گایل گاوں پر دو اور تین جون کی رات پر جو قیامت گزری اس کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہوسکی کہ آیا یہ سیلاب تھا یا آسمانی بجلی۔ وجہ تاہم جو بھی ہو اس میں سترہ افراد ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے۔ دو خاندان تو سرے سے ختم ہوگئے۔ جو مر گئے سو مر گئے لیکن جو زندہ بچ گئے ان کے سروں سے چھت بھی چھن گئی۔ اب وہ کھلے آسمان تلے امداد کی آس میں بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور چند غیرسرکاری تنظیموں نے جو مدد کی ہے وہ ناکافی ہے۔ اس گاؤں کے متاثرہ شخص فضل احمد کا کہنا تھا کہ جانی نقصان کے علاوہ ان کا مکان، کھیت اور دیگر گھریلو سامان سب برباد ہوچکے ہیں۔ ’ہم یا تو کھلے آسمان یا ہمسایوں کے گھر میں پناہ لیئے ہوئے ہیں۔ جن لوگوں کے مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں وہ بھی ان میں رہ نہیں سکتے۔ مال مویشی بھی مر گئے۔ بس تمام پروگرام گڑبڑ ہے۔‘ ایک دوسرے متاثرہ شخص نے بتایا کہ اس کا مکان تباہ ہوگیا اور بچے بھی مر گئے ہیں۔ اب وہ اس مقام پر نہیں رہ سکتے۔ ’اب اتنا بس نہیں کہ کسی دوسری جگہ زمین خرید کر مکان تعمیر کرسکیں۔‘ کالام کے مقامی صحافی رحمت دین صدیقی کو شکایت ہے کہ گزشتہ برس کی شدید برفباری سے ہونے والے نقصانات سے لے کر اس تازہ واقعے تک نہ تو مرکزی اور نہ ہی صوبائی حکومت کے کسی اعلی عہدیدار نے نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیئے یہاں کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ صدر یا وزیر اعظم اس علاقے کا دورہ کر کے کسی بڑے امدادی پیکج کا اعلان کریں۔ صوبائی حکومت نے ہلاک اور زخمیوں کے لیئے امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ چند غیرسرکاری تنظیموں نے خیمے اور چند دیگر اشیاء مہیا کی ہیں تاہم متاثرین کے بقول یہ عارضی اور ناکافی ہیں۔ یونین کونسل کالام کے ناظم حبیب اللہ ثاقب کا ماننا ہے کہ ان متاثرین کے لیئے مستقل بنیادوں پر مدد کی ضرورت ہے۔ ’ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں مستقل بنیاد پر زمین خرید کر نیا مکان تعمیر کر کے دیا جائے۔ انہیں امداد کی انتہائی ضرورت ہے۔‘ کالام کے اس گاؤں کے متاثرین حکومت اور غیرسرکاری تنظیموں کی راہ تک رہے ہیں۔ ان کی امداد ہی اب ان کے دکھ کو کچھ کم کر سکتی ہے۔ | اسی بارے میں تودہ گرنے سے بارہ ہلاک، دس لاپتہ03 July, 2006 | پاکستان گاؤں لینڈ سلائڈنگ کی زد میں31 January, 2006 | پاکستان بس پر پہاڑی تودہ آگرا، ایک ہلاک06 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||