کوئٹہ میں خواتین کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں تین ہفتوں سے علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھی خواتین نے سنیچر کو لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے ۔ اس مظاہرے میں خواتین کے ساتھ بچے بھی شامل تھے اور حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کر رہے تھے۔ کوئٹہ میں پہلی مرتبہ لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے خواتین نے پریس کلب کے سامنے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا ہے جس میں کوئی ایک درجن کے لگ بھگ خواتین شرکت کر رہی ہیں۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے شکر بی بی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بلوچستان سے اب تک کوئی سات ہزار افراد لاپتہ ہیں جنھیں خفیہ ایجنسیوں نے اٹھایا ہے اور اب تک بیشتر لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا گیا ہے اور ناں ہی انھیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ مظاہرے میں انسانی حقوق کی تنظیم کی ایک خاتون رکن نفیسہ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچوں کو انتہائی قدم اٹھانے پر حکومت نے خود مجبور کیا ہے۔ خواتین کے اس علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ میں پہلے چند خواتین ہی بیٹھی تھیں لیکن بقول شکر بی بی ایڈووکیٹ کے اب دیگرخواتین ان کے ساتھ شامل ہو رہی ہیں اور صوبے کے دیگر اضلاع میں خواتین ان کی حمایت میں مظاہرے کر رہی ہیں جو حکومتی پالیسیوں کے خلاف لوگوں کا رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||