بگٹی، بھگوان اور مہاجر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے مرحوم قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے حامی قبیلے کے ہزاروں افراد صوبہ سندھ اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں مہاجر بن کر انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بلوچستان کے ضلع جعفر آباد میں سڑک کنارے سخت دھوپ اور بارشوں میں گھاس پوس کی جھونپڑیوں میں مقیم یہ بگٹی کہتے ہیں کہ اب لوگ انہیں ’مہاجر بگٹی، کہتے ہیں۔ امان اللہ بگٹی نے کہا کہ ’لوگوں کی باتیں سن سن کر ہم نے بھی خود کو مجبوراً مہاجر بگٹی کہلوانا شروع کردیا ہے۔ جب ان سے پوچھا کہ وہ ڈیرہ بگٹی واپس کیوں نہیں جاتے تو انہوں نے کہا کہ ’جب تک مشرف سرکار ختم نہیں ہوگی اور نواب بگٹی کے خاندان کی خلافت بحال نہیں ہوگی اس وقت تک وہ واپس نہیں جائیں گے‘۔ ڈیرہ بگٹی بدر ان بگٹیوں سے بات کی تو بیشتر کی کہانیاں تقریبا ایک دوسرے سے ملتی جلتی تھیں۔ امان اللہ بگٹی نے بتایا کہ وہ بیس روز پیدل چلنے کے بعد جعفر آباد پہنچے اور اس دوران ان کے پچاس سالہ چچا اور دو معصوم بچے راستے میں ہی مرگئے اور انہیں بغیر کفن، غسل اور نمازِ جنازہ کے دفن کر دیا۔
’ہمارے ریوڑ کے کچھ جانور بمباری میں مرگئے، کچھ سنگسیلا چوکی والے فوجیوں نے پکڑ لیے اور جو باقی بچے وہ بیچ کر جھگیاں بنائیں اب یومیہ اجرت کرتے ہیں۔ کبھی کام ملتا ہے کبھی نہیں۔ عذاب والی زندگی بسر کر رہے ہیں‘۔ ستر سالہ جمعہ خان بگٹی نے بتایا کہ وہ کاکاری کے علاقے سے نواب کی موت سے دو ماہ قبل جب جعفر آباد کے لیے آئے تو ان کے علاقوں میں شدید بمباری ہوتی تھی۔ بے گھر ان بگٹیوں کے بچوں کی تعلیم بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ جھگیوں کے قریب درخت کے سائے تلے کھڑے بچوں سے بات کی تو وہ شرمانے لگے۔ لیکن ایک چھ سالہ گل محمد نے بتایا کہ سکول ان کی جھگیوں سے دور ہے اس لیے وہ مسجد میں قاعدہ پڑھتے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی سے نقل مکانی کرکے مختلف علاقوں میں آباد ان بگٹیوں کے ساتھ مٹی کی دیواریں بنانے والے اوڈ اور شادی وغیرہ میں گانے بجانے والے منگنھار فقیر جو بھی خود بگٹی کہتے ہیں، وہ بھی متاثرین میں شامل ہیں۔
حاکم زادی منگنھار نے بتایا کہ ’ڈیرہ بگٹی کی جنگ میں ان کا خاندان ہی تقسیم ہوگیا۔ کوئی کوئٹہ گیا کوئی کراچی تو کوئی کہیں اور۔۔ اب تو رابطہ بھی نہیں ہوتا‘۔ مہاجر بگٹیوں، کی امداد کے متعلق نواب بگٹی کی جماعت جمہوری وطن پارٹی کے جعفر آباد کے ضلعی صدر غلام حسین کا کہنا ہے کہ متاثرین کی حکومت امداد کرتی ہے اور نہ کسی غیر سرکاری تنظیم کو مدد کی اجازت دیتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اوکسفیم نامی تنظیم نے مدد کرنا چاہی لیکن انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکاروں نے انہیں بھگادیا۔ اس بارے میں جب جمیل اکبر بگٹی سے پوچھا گیا کہ انہوں نے خود یا ان کی جماعت نے اپنے قبیلے کے متاثرہ حامیوں کے لیا کیا کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ وہ خود ہی زیر عتاب ہیں۔ ’حکومت نے ہمارے بینک اکاؤنٹ منجمد کیے ہیں، صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں سینکڑوں ایکڑ زمین ایک سال سے حکومت کی تحویل میں ہے تو ہم کیا کریں‘۔ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کو ایک سال ہوچکا لیکن ان کے ماننے والے بیشتر بگٹی آج بھی ان سے عقیدے کی حد تک مانتے ہیں۔ ایسے ہی ایک مانجھی خان بگٹی ہیں جو کہتے ہیں کہ ’نواب ہمارے لیے علیحدہ کھانا بنواتے تھے اور کبھی ساتھ آ کر کھاتے تھے اور اس وقت ہم اتنے خوش ہوتے تھے جیسے ہندو کہتے ہیں کہ بھگوان مل گیا ہے‘۔ |
اسی بارے میں بگٹی برسی: یوم سیاہ، ہڑتال کی اپیل25 August, 2007 | پاکستان سوئی دھماکہ، پولیس اہلکار زخمی12 August, 2007 | پاکستان رازق بگٹی قاتلانہ حملے میں ہلاک27 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||