بلوچستان: آٹے کا بحران جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں آٹے کا بحران جاری ہے اور کئی ایسےعلاقوں میں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جہاں درجہ حرارات منفی گیارہ سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ قلات اور ژوب میں آج احتجاجی مظاہرے کیےگئے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف شہروں میں آٹے کی قلت گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے آئے روز احتجاجی مظاہرے کیے جاتے ہیں۔گزشتہ روز چمن اور اس سے پہلے نوشکی میں احتجاج کیا گیا تھا۔ اتوار کے روز قلات میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے اور سیاسی جماعتوں اور غیر سرکاری تنظیموں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ قلات سے مقامی صحافی محمود آفریدی نے بتایا ہے کہ ایک ہفتے سے آٹا منڈی میں دستیاب ہی نہیں ہے اور گیس کی گیارہ گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔ان کا کہنا ہے قلات میں درجہ حرارت منفی گیارہ سنٹی گریڈ تک رہتا ہے بارشیں ہو رہی ہیں اور پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن حکومت کی جانب سے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے جا رہے ۔ اتوار کے روز ژوب شہر میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ مقامی صحافی عبدالرحمان حریفال نے بتایا ہے کہ آٹے کی قلت اور بجلی کی آنکھ مچولی سے لوگ پریشان ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ دوگھنٹےاگر بجلی ہوتی ہے تو پھر چار گھنٹے تک بجلی غائب ہو جاتی ہے اور آٹے کی صورتحال تو یہ ہے کہ قریب دیہاتوں سے لوگ یہاں مسافر خانوں میں چار چار دن تک رہتے ہیں تاکہ گھر آٹا لےجا سکیں۔ کوئٹہ میں آج سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری خوراک نے اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ آٹا کی افغانستان سمگلنگ روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور آٹے کے بحران پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔ یاد رہے اس طرح کی یقین دہانیاں گزشتہ ایک ماہ سے کرائی جا رہی ہیں۔ چند دنوں کے لیے آٹا محدود پیمانے پر فراہم کر دیا جاتا ہے لیکن مہینے کے آخر اور اوائل میں یا تو آٹا منڈی سےغائب کر دیا جاتا ہے اور یا منہ مانگے داموں فروخت کیا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں پاکستان میں آٹے کا تیرھواں مہینہ25 February, 2004 | پاکستان بلوچستان میں آٹا ملوں کی ہڑتال01 June, 2004 | پاکستان اسلام آباد سے آٹا غائب ہو گیا10 February, 2004 | پاکستان سندھ میں آٹے کا بحران 09 December, 2007 | پاکستان پورا ملک آٹا بحران کی لپیٹ 13 December, 2007 | پاکستان گندم کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ 17 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||