BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 January, 2008, 12:11 GMT 17:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سی این جی کے مالکان پریشان

 سی این جی
سی این جی کے شعبے میں نوے ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے
پاکستان میں سی این جی سٹیشن مالکان کی تنظیم نے حکومت کی جانب سے گیس کے نرخوں کو پٹرول کے برابر لانے کے بارے میں اطلاعات پر تحفظات و خدشات کا اظہار کیا ہے۔

سی این جی ایسو سی ایشن کی تشویش کی بڑی وجہ ایک اخبار کی خبر ہے جس کے مطابق پلاننگ ڈویژن نے حکومت کو سی این جی کی قیمت پٹرول کے برابر لانے کی تجویز دی ہے۔

تنظیم کے عہدیداران کے مطابق ملک میں گیس کے حالیہ بحران سے نمٹنے کے لئے نرخوں میں اضافے اور اسے پٹرول کے برابر لانے سے سی این جی کی صنعت کو شدید خسارے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اسلام آباد میں آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے چیئر مین ثناءالرحمن نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ پلاننگ کمیشن کے اجلاس میں گیس کے نرخوں کو پٹرول کے برابر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جس کا مقصد عوام کو کم قیمت ایندھن سے محروم کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کے عہدیداروں نےگیس اور تیل کے نرخوں کا تعین کرنے والے سرکاری ادارے اوگرا کے حکام سے اس مسئلے پر بات کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں نوے کی دہائی کے آغاز سے اب تک حکومت کی دوستانہ پالیسی کے تحت سی این جی کے شعبے میں نوے ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوچکی ہے جس کی وجہ سے عوام کو سستا اور ماحول دوست ایندھن فراہم ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق صارفین نے سی این جی کٹس لگا کر پینتالیس ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے جبکہ چالیس ارب روپے کی مزیدسرمایہ کاری ہونے جارہی ہے۔

گیس کے نرخ پٹرول کے برابر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے

ثناء الرحمن کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں سی این جی کے استعمال سے جہاں ماحول کو آلودگی سے تحفظ حاصل ہوا ہے وہیں یہ چھ اعشاریہ ایک ارب لیٹر پٹرول کا متبادل بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے نرخ بڑھانے کے فیصلے سے سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

تنظیم کے عہدیداران نے حکومت پر الزام لگایا کہ سردیوں کے موسم میں فروری سے نومبر تک گیس کی کھپت میں اضافے کو پورا کرنے کے لئے مناسب حکمت عملی طے نہیں کی گئی جس کی وجہ سے موجودہ بحران پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومتی فیصلے سے سی این جی کی صنعت میں تعطل آیا تو حکومت کو بیرون ملک سے مہنگے داموں پٹرول درآمد کرنا پڑے گا جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آئے گی اور ملک میں افراط زر بڑھے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد