ایک روزہ علامتی ہڑتال کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے خلاف کراچی میں ٹرانسپورٹرز اتحاد نے چار اکتوبر کو ایک روزہ علامتی ہڑتال کی دھمکی دی ہے۔ اس سے قبل ستمبر میں بھی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپوٹروں نے حکومت سے کہا تھا کہ قیمتوں میں کمی کی جائے مگر ایک مرتبہ پھر قیمتوں میں اضافہ کردیاگیا ہے۔ ہفتے کی شام کو کراچی ٹرانسپورٹرز اتحاد کا ایک اجلاس ارشاد حسین شاہ بخاری کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ٹرانسپورٹ کی تمام تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں قیمتوں کا تعین کرنے والی تیل کمپنیوں کی مشاورتی کمیٹی کی جانب سے تیس ستمبر کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیاگیا۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق دس مئی دو ہزار پانچ کو بسوں، منی بسوں، اور کوچوں کے کرایے میں اضافے کے بعد تیس جون سے لیکر اب تک تین ماہ میں تین مرتبہ مجموعی طور پر پیٹرول کی قیمت میں دس روپے چھہتر پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں آٹھ روپے بارہ پیسے اضافہ کیاگیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال قطعی طور پر ناقابل برداشت ہے اور موجودہ قیمتوں میں کاروبار چلانا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران بڑھائی گئی تیل کی قیمتیں واپس لی جائیں بصورت دیگر بسوں، منی بسوں، اور کوچز کی منگل کے روز علامتی ہڑتال کی جائےگی تاہم ہڑتال سے رکشا، ٹیکسی، ییلو کیب کو مستثنیٰ قرار دیاگیا۔ اجلاس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تیل کمپنیوں کی مشاورتی کمیٹی کو ختم کرکے قیمتوں کا پرانا نظام بحال کیا جائے اور کم از کم چھ ماہ کے بعد ہی قیمتوں میں ردوبدل کیا جائے۔ کراچی میں اٹھارہ ہزار بسیں اور منی بسیں، پچیس ہزار ٹیکسی کاریں اور پینتیس ہزار کے قریب رکشا چلتے ہیں۔ اس سے قبل آٹھ جنوری دو ہزار پانچ کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے بعد سندھ حکومت نے فی کلومیٹر کرائے میں ایک روپے کا اضافہ کردیا تھا۔جبکہ رواں سال ماہ مئی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کی دھمکی کے بعد حکومت نے کرائے بڑھا دیے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||