پٹرول باون روپے اکسٹھ پیسے ہوگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایک مرتبہ پھر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ تیل کی قیمتیں ایک روپیہ اڑتیس پیسے سے لے کر زیادہ سے زیادہ تین روپے سڑسٹھ پیسے بڑھائی گئی ہیں۔ اس اعلان کے ساتھ ہی عام استعمال کی چیزوں کی قیمتوں اور کرایوں میں اضافہ کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ اب پٹرول کی قیمت باون روپے اکسٹھ پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل دو روپے پچاسی پیسے کے اضافے کے ساتھ چونتیس روپے انسٹھ پیسے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ اسی طرح کیروسین آئل(مٹی کا تیل) کی قیمت میں ایک روپیہ سینتالیس پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت اکتیس روپے لیٹر ہوگئی ہے۔ لائیٹ ڈیزل کی قیمت ایک روپیہ اڑتیس پیسے کے اضافے کے ساتھ انتیس روپے بائیس پیسے مقرر کی گئی ہے۔ موجودہ اضافے کے بعد گزشتہ آٹھ ماہ میں پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر سات روپے اور ڈیزل کی قیمتوں میں ساڑھ پانچ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ تیل کی قیمتوں کا تعین کرنے والی تیل کی کمپنیوں کی مشاورتی کاؤنسل کے سیکرٹری عابد ابراہیم کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ سال دو ہزار پانچ کی ابتداء ہی پٹرول کی قیمت میں چھ روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں تین روپے کے ساتھ ہوئی تھی۔ اس سے قبل گزشہ سال دسمبر کی آخری ہفتے میں پٹرول ساڑھے انتالیس روپے جبکہ ڈیزل چھبیس روپےاور کیروسین آئل ساڑھے پچیس میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||