پیٹرول کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں ایک مرتبہ پھر تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے۔ حالیہ سال کے نو ماہ میں پیٹرول کی قمیتوں میں پونے گیارہ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ جنوری میں پیٹرول کی قیمت پینتالیس روپے تریپن پیسے فی لیٹر تھی جو اب چھپن روپے انتیس پیسے ہوگئی ہے۔ ملک میں آئندہ پندرہ دن کے لیے پیٹرول کی قیمت میں تین روپے چھیاسٹھ پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کے بعد پیٹرول کی قیمت چھپن روپے انتیس پیسے ہوگئی ہے۔ جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت ڈھائی روپے کے اضافے کیساتھ سینتیس روپے اٹھارہ پیسے مقرر کی گئی ہے۔ نچلی طبقے کے استعمال میں آنے والے مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی اضافہ کر کے قیمت بتیس روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ پاکستان میں تیل کی قیمتوں کا تعین کرنے والی آئل کمپنیز ایڈوائیزری کمیٹی نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ رمضان کے مہینے شروع ہونے سے صرف چار دن قبل کیا ہے۔ رمضان کے مہینے کے دوران پاکستان میں عام استعمال کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا تا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں موجودہ اضافے سے مہنگائی مزید بڑہ جانے کا امکان ہے۔ اس سے قبل گزشہ ماہ پیٹرول کی قیمت میں تین روپے سڑسٹھ پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کے بعد پیٹرول کی قیمت باون روپے اکسٹھ پیسے ہوگئی۔جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل دو روپے پچاسی روپے کے اضافے کیساتھ چونتیس روپے انسٹھ روپے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ اسی طرح کیروسین آئل(مٹی کا تیل) کی قیمت میں ایک روپیہ سینتالیس پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت اکتیس روپے لیٹر ہوگئی ہے۔ جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت ایک روپیہ اڑتیس روپے کے اضافے کیساتھ انتیس روپے بائیس پیسے مقرر کی گئی ہے۔ تیل کی قیمتوں کا تعین کرنے والی آئل کمپنیز ایڈوائیزری کونسل کے ترجمان کا کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق دو ہزار چار سے لیکر عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمتوں میں بیانوے فیصد جبکہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت میں اڑسٹھ فیصد اضافہ ہوا۔ جس میں سے صرف بیالیس فیصد کا وزن عوام پر ڈالا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||