پاکستان میں سردی کی شدید لہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کےمختلف میدانی اور پہاڑی علاقے ان دنوں شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔محکمہ موسمیات کےمطابق پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سردی نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے ایک افسر نے بتایا کہ منگل کو طلوع آفتاب سے کچھ دیر پہلے لاہور ائر پورٹ پر درجہ حرارت منفی دواعشاریہ دو سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا اور محکمے کے پاس موجود ریکارڈ کےمطابق لاہور میں اس سے پہلے اتنا کم درجہ حرارت کبھی نہیں رہا۔ پچھلے برس سات جنوری کو کم از کم درجہ حرارت منفی دو سینٹی گریڈ ہوا تو محکمہ موسمیات نے قرار دیا تھا کہ سردی کا ستر سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے تا ہم اس برس اس سے بھی زیادہ سردی ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بار بحیئرہ کیسپیئن سے اٹھنے والی سرد ہوائیں ایران سے افغانستان کے پہاڑوں کی طرف جانے کی بجائے درہ بولان سے پاکستان کے میدانی علاقوں میں براہ راست داخل ہوگئی ہیں۔ کشمیر اور مری کے پہاڑوں پر برفباری اور بعض میدانی علاقوں میں ژالہ باری ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے ان تمام وجوہات کی بنا پر پنجاب اور سندھ کے کئی میدانی شہروں کا درجہ حرارت منفی میں چلا گیا ہے۔ اسلام آباد، میانوالی اور نواب شاہ میں درجہ حرارت منفی تین رہا ہے اس کےعلاوہ بھی پنجاب کے شہروں فیصل آباد، سرگودھا اور سیالکوٹ میں کم از کم درجہ حرارت منفی میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سردی کی وجہ سے شہریوں کےمعمولات میں بھی فرق آیا ہے اورگرم کپڑوں اور ہیٹر کا استعمال بڑھ گیا ہے تاہم بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور قدرتی گیس کی قلت نےلوگوں کی پریشانی میں اضافہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں لاہور: سردی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا07 January, 2007 | پاکستان امدادی سرگرمیاں دوبارہ بحال 18 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||