BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 January, 2007, 15:10 GMT 20:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور: سردی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

سردی(فائل فوٹو)
سردی کی حالیہ لہر ابھی دو یا تین دن تک جاری رہےگی(فائل فوٹو)
پاکستان کے بیشتر علاقے ان دنوں سخت سردی کی لپیٹ میں ہیں اور بعض بلند علاقوں میں برفباری کی اطلاعات ملی ہیں۔

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سردی کا ستر سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے اور اتوار کو لاہور میں کم از کم درجہ حرارت منفی دو سینٹی گریڈ ریکارڈ کیاگیا ہے۔

محکمۂ موسمیات کے ماہرین کے مطابق یہ درجہ حرارت طلوع آفتاب سے کچھ پہلے ریکارڈ کیا گیا۔ چیف میٹریالوجسٹ شوکت علی اعوان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے محکمہ میں موجود گزشتہ ڈیڑھ سو برس کے ریکارڈ کے مطابق سات جنوری سنہ دو ہزار سات سے قبل صرف انیس سو پینتیس میں لاہور کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے دو ڈگری کم ہوا تھا۔

محکمہ موسمیات کے ماہرین کے مطابق نئے سال کے آغاز سے درجہ حرارت میں روزانہ ایک ڈگری کی کمی ہورہی ہے حالانکہ دسمبر کے پورے مہینے کے دوران کم سے کم درجہ حرارت میں صرف تین درجے کمی ہوئی تھی۔

محکمہ موسمیات نے پیشین گوئی کی ہے کہ سردی کی حالیہ لہر ابھی دو یا تین دن تک جاری رہے گی۔ دسمبر کے آخری ہفتے اور جنوری کے پہلے ہفتے میں دھند کا نہ ہونا اس ریکارڈ توڑ سردی کا ایک اہم سبب بنا ہے جبکہ دوسری وجہ ہواؤں کا رخ ہندو کش اور قراقرم کے برفیلے پہاڑوں سے پاکستان کے میدانی علاقوں کی جانب ہونا ہے۔

 ملک میں شدید ترین سردی گلگت اور سکردو میں پڑ رہی ہے جہاں درجہ حرارت منفی تیرہ اعشاریہ چار ہے جبکہ ہفتے کو سوات اور مالم جبہ کے علاقے منفی تیرہ سنٹی گریڈ درجہ حرارت کےساتھ سرد ترین تھے۔
محکمہ موسمیات

لاہور میں محکمہ موسمیات کےسربراہ شوکت علی اعوان نے کہا کہ مطلع صاف ہونے کی وجہ سے زمین کی اپنی حرارت بکھر گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں ہوا کا دباؤ بھی غیرمعمولی اور ایک ہزار چوبیس ملی بار رہا جس کی وجہ سے سردی کی اس لہر کا پھیلاؤ بہت بڑھ گیا ہے اور پورا خطہ اس کی لپیٹ میں ہے۔

سردی کی شدت بنگلہ دیش اور نیپال تک محسوس کی جارہی ہے جبکہ پاکستان میں اس کا پھیلاؤ چاروں صوبوں اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر تک ہے اور بعض علاقوں میں شدید برفباری بھی ہو رہی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں شدید ترین سردی گلگت اور سکردو میں پڑ رہی ہے جہاں درجہ حرارت منفی تیرہ اعشاریہ چار ہے جبکہ ہفتے کو سوات اور مالم جبہ کے علاقے منفی تیرہ سنٹی گریڈ درجہ حرارت کےساتھ سرد ترین تھے۔

صوبہ بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ، قلات اور زیارت میں درجہ حرارت منفی دس تک گرا ہے جبکہ سندھ کے معتدل علاقوں لاڑکانہ اور نواب شاہ میں بھی درجہ حرارت دو ڈگری تک جا پہنچنا ہے۔

ان دنوں پنجاب کے قریباً اضلاع میں درجہ حرارت نقطہ انجماد پر یا اس سے کم ہے تاہم محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب میں شدید ترین سردی کا سامنا لاہور کے شہریوں کو ہے۔

پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری بھی ہو رہی ہے

پنجاب کے شہروں میانوالی اور مظفرگڑھ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی ایک رہا ہے جبکہ سرگودھا میں درجہ حرارت صفر ریکارڈ کیا گیا ہے۔موسمیات کے ماہر شوکت علی اعوان کے مطابق اس کے علاوہ اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر درجہ حرارت منفی دو جبکہ پشاور میں منفی ایک ریکارڈ کیا گیا۔

سردی کی وجہ سے شہریوں کے معمولات میں بھی فرق آیا ہے اورگرم کپڑوں اور ہیٹر کا استعمال بڑھ گیا ہے تاہم بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور قدرتی گیس کی قلت نے لوگوں کی پریشانی میں اضافہ کیا ہے۔ پہاڑی علاقوں خاص طور پر زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کے مکین بھی سخت سردی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔

لاہور میں خشک میوہ جات اور لنڈے کے پرانے کپڑوں کی قیمتوں میں اضافہ کا رجحان بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ دوسری جانب پنجاب میں سردیوں کی تعطیلات کے بعد تعلیمی ادارے پیر کو اس وقت کھلنے والے ہیں جب ستر برس کے دوران سردی اپنے عروج پر ہوگی۔

اسی بارے میں
کشمیر: سردی سے چار بچے ہلاک
05 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد