’بجلی کا بحران دس دن جاری رہے گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بجلی کی فراہمی کے ادارے پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً دس روز تک بجلی کا بحران جاری رہ سکتا ہے جس کے بعد لوڈ شیڈنگ کے اوقات میں قدرے کمی آجائے گی۔ پاکستان کو گزشتہ تین چار روز سے بجلی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور ملک کے بعض حصوں میں سولہ گھنٹے تک غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں اوسطً صرف آٹھ گھنٹے روزانہ کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی یعنی پیپکو کے مینجنگ ڈائریکٹر منور بصیر نے لاہور کے واپڈا ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پاکستان کو دن میں کم از کم دوہزار میگاواٹ اور رات میں ساڑھے تین ہزار میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔ واپڈا کے اعداد و شمار کے مطابق طلب و رسد کا یہ خسارہ تیس سے پینتیس فی صد ہے۔ یعنی ملک کو جتنی بجلی درکار ہے اس کا زیادہ سے زیادہ ستر فی صد فراہم کیا جا رہا ہے۔ بجلی کی اس قلت سے صنعتی، تجارتی اور گھریلو صارفین بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ فیکٹریاں بند پڑی ہیں، تجارتی مراکز اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔ لاہور چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر محمد علی میاں نے کہا ہے کہ اگر بجلی کا یہ بحران جلد ختم نہ ہوا تو ملکی برآمدات کا ہدف پورا کرنا مشکل ہوجائے گا۔ پیپکو کے منیجنگ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اس بحران کی ایک بڑی وجہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہونے والے ہنگامے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس موسم میں پانی کے ذخائر پہلے ہی کم تھے پھر اچانک ہونے والے ہنگاموں کی وجہ ریل کا نظام معطل ہوا جس سے تھرمل یونٹس کو تیل کی سپلائی بند ہوگئی اور منگل کی شام سندھ کے علاقے میں بجلی کے تین ایسے کھمبے بم دھماکے سے اڑا دئیے گئے جن سے ہائی پاور ٹرانسمیشن کی تاریں گزرتی تھیں۔ واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ سردیوں میں سوئی گیس کی قلت بھی شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے سوئی گیس سے چلنے والے بجلی کے پیداواری پاور پلانٹس بند ہیں۔ واپڈا حکام نے ان معاملات سے نمٹنےکے لیے جمعہ کو لاہور میں ریلوے اور سوئی گیس کے حکام کا مشترکہ اجلاس بلایا ہے۔ پاکستان الیکٹرک پاورکمپنی کے سربراہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ ایک ڈیڑھ ہفتے کےدوران اس بحران پر کسی حد تک قابو پایا جاسکے گا جس کے بعد منظم لوڈ شیڈنگ کی جاسکے گی۔ بیس جنوری کو ذخائر سے پانی کا اخراج بڑھے گا جس سے حالت بتدریج بہتر ہوسکے گی۔ پیپکو کے سربراہ منور بصیر نے کہا کہ موسم کی بہتری کے ساتھ انہیں توقع ہے کہ فروری کے وسط تک لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی۔ | اسی بارے میں واپڈا مفاہمت: کریڈٹ کی جنگ14 October, 2006 | پاکستان واپڈا کے خلاف کارروائی کا فیصلہ23 December, 2006 | پاکستان ’روزانہ آدھے گھنٹے بجلی بند‘03 January, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ واپڈا سے واجبات دلائے10 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||