سپریم کورٹ واپڈا سے واجبات دلائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی حکومت نے وفاقی حکومت اور پانی اور بجلی کے ترقیاتی ادارے واپڈا کے خلاف بجلی کے خالص منافع کا تنازعہ کوسپریم کورٹ میں لے گئی ہے۔ صوبائی حکومت کے وکیل عبدل حفیظ پیرزادہ نے اس بابت آئین کے آرٹیکل 184 (1) اور 187 کے تحت ایک آئینی پٹیشن عدالت عظمی میں دائر کی ہے۔ سرحد حکومت اور پانی اور بجلی کے ترقیاتی ادارے واپڈا کے درمیان چودہ برسوں سے پن بجلی کے خالص منافع کا تنازعہ چلا آ رہا ہے۔ سرحد حکومت کا موقف ہے کہ واپڈا کو ایک سو دس ارب روپے کے بقایاجات صوبہ سرحد کو دینے ہیں۔ وفاقی حکومت نے گزشتہ برس اس مسئلے کے حل کے لیئے ایک ثالثی کمیشن تشکیل دیا تھا۔ سرحد حکومت کے مطابق وفاقی حکومت نے اس کمیشن کے فیصلے پر عمل درآمد کی ضمانت دی تھی۔ تاہم یہ فیصلہ بھی ہوا تھا کہ کمیشن کے فیصلے کے خلاف کوئی بھی فریق عدالت سے رجوع نہیں کر سکے گا۔ ثالثی کمیشن کے فیصلے کے تحت واپڈاکو سرحد حکومت کو گزشتہ برس دسمبر تک بائیس ارب روپے کی پہلی قسط ادا کرنی تھی۔ لیکن واپڈا نے ایسا نہیں کیا۔ اس کا موقف تھا کہ وہ مالی بحران کا شکار ہے اور یہ رقم ادا نہیں کر سکتا۔ ادھر اسلام آباد میں آج فرنٹیر ہاؤس میں صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے تمام منتخب نمائندوں کا ایک جرگہ منعقد ہوا۔ جرگے میں صوبائی اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی، سینٹ اور ناظمین نے شرکت کی۔ متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ایک قرار داد میں وفاقی حکومت سے اپنی آیئنی ذمہ داری پوری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیر اعلی سرحد اکرم خان درانی نے افسوس کا اظہار کیا کہ واپڈا کے رویے کی وجہ سے صوبے کی ترقی کا جو منصوبہ انہوں نے تیار کیا تھا وہ بری طرح متاثر ہوگا۔ | اسی بارے میں ہائیڈل رائلٹی، ثالث ٹرائبونل کا قیام31 October, 2005 | پاکستان سپریم کورٹ نے حسبہ بل روک دیا15 December, 2006 | پاکستان واپڈا کے خلاف کارروائی کا فیصلہ23 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||