پانی کے اخراج پر کسانوں کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آبی ذخائر سے پانی کے زیادہ اخراج کے معاملے پر صوبہ پنجاب اور سندھ کے کاشتکاروں نے سخت اعتراض کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چند ہفتوں بعد پاکستان میں پانی کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ صوبہ پنجاب اور سندھ کی بعض کاشتکار تنظیموں کے نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر سستی بجلی پیدا کرنے کی خاطر ڈیموں سے پانی کے اخراج میں کمی نہ کی گئی تو گندم کی فصل کو مطلوبہ پانی نہیں ملےگا اور ایسے میں آٹے کا بحران مزید سنگیں ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں زرعی مقاصد کے لیے چاروں صوبوں کو نہری پانی کی تقسیم کے مجاز ادارے ارسا نے جمعہ کو ڈیموں سے پانی کے اخراج میں چھ ہزار کیوسک کا مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تربیلا اور منگلہ ڈیموں سےگزشتہ کئی روز سے زرعی مقاصد کےلیے مطلوب پانی کی حد سے زیادہ اخراج پر کاشتکاروں کی کچھ تنظیموں نے سخت اعتراضات کیے ہیں۔ صوبہ پنجاب میں قائم پاکستان ایگرو فورم کے رہنما ابراہیم مغل کہتے ہیں’آج کل ڈیموں سے جو زیادہ پانی کا اخراج کروایا جا رہا ہے، میرے خیال میں یہ حماقت ہے اور اپنے پاؤں پر کلہاڑہ مارنے والی بات ہے۔ ایک وزیر ہیں جن کا رقبہ رحیم یار خان ضلع میں ہے، انہوں نے بھی ماضی میں ایسا کیا کہ جو چھ مہینے چلنے والی نہر تھی اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بارہ مہینے چلوا لی اور بعد میں قوم کو اس کا خمیازہ یا سزا بھگتنا پڑا۔‘ انہوں نے کہا کہ جب فروری کے آخر یا مارچ میں دو کروڑ ایکڑ پر کھڑی گندم کی فصل کو پانی کی شدید ضرورت ہوگی۔ بجلی کے ٹیوب ویل تو ڈیڑھ لاکھ ہیں، باقی ڈیزل چالیس روپے لیٹر ہے، ساڑھے آٹھ لاکھ ٹیوب ویل کسان نہیں چلا سکتے، اس کی واٹر کوالٹی بھی اتنی اچھی نہیں ہے۔ تب آپ کو بہت زیادہ اس نہری پانی پر انحصار کرنا پڑے گا‘‘ سندھ کے کاشتکاروں کی تنظیم کے نمائندے سید قمر زماں شاہ کو بھی خدشہ ہے کہ اگر گندم کے پکنے کے وقت پانی کم ملا تو حالات خراب ہو سکتے ہیں: ’’گندم پکے گی نہیں تو فصل کم از کم پچیس فیصد کم ہو جائے گی اور ہم پہلے ہی پریشان بیٹھے ہیں، آٹے کا بحران ہے اور گیہوں کا بحران ہے اور اللہ کا کرم ہے اس سال چونکہ بارشیں بھی ہوئی ہیں، انشاء اللہ بمپر فصل ہوگی۔ ہم بمپر فصل کو خوامخواہ پانی کی مار دے کر کم کریں، یہ غلط ہوگا۔‘‘ اس بارے میں پانی کی تقسیم کے ادارے کے سرکردہ نمائندے شفقت مسعود کہتے ہیں کہ ملک میں پانی وافر مقدار میں موجود ہے: ’’ہماری اصل ترجیح زرعی شعبہ ہے لیکن اس کے ساتھ بجلی جو بائی پراڈکٹ ہے، اس کے لیے پانی دیا جا رہا ہے۔ اگر ہمیں تھوڑا سا بارشوں سے پانی نہ ملتا تو پھر ہم یہ فالتو پانی بالکل نہ دیتے۔ بجلی کی جو پیداوار ہے، یہ بھی زراعت میں مدد کرتی ہے، اس سے بھی ٹیوب ویل چلائے جاتے ہیں۔‘‘ سندھ کے کاشتکاروں کے نمائندے قمر زماں شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت کے بعض دعوے ماضی میں بھی غلط ثابت ہوئے ہیں: ’’کیوں ہمیں حکومت نے کہا کہ ہمارے پاس وافر مقدار میں ہے، برآمد کرو، برآمد کرو۔ ہم نے پوچھا کیوں کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس وافر مقدار میں ہے، برآمد کرو اور پھر گلے پڑ گیا تو سستی برآمد کی مہنگی درآمد کی۔ ایسا تو نہ کریں۔‘‘ پنجاب اور سندھ کے کاشتکاروں کے بعض نمائندوں کے خدشات اپنی جگہ لیکن اس بارے میں ارسا کے نمائندے شفقت مسعود کافی پرامید ہیں: ’’اس وقت عملی طور پر ہمارے پاس تقریباً دو اعشاریہ تین ملین ایکڑ فیٹ پانی موجود ہے۔ دریاؤں میں پانی آمد بھی پچھلے سال سے بہت بہتر ہے اور ہمیں امید ہے کہ انشاء اللہ العزیز ہماری دونوں جو واٹرنگ ہیں ربیع کے لیے، یہ ہم پوری کر لیں گے۔‘‘ پانی کی تقسیم کے ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رفتہ رفتہ زرعی مقاصد کے لیے پانی کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس سے جہاں آبپاشی کی ضروریات پوری ہوں گی وہاں سستی بجلی کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔ | اسی بارے میں دو سال: کالا باغ سمیت چھ ڈیم 10 April, 2006 | پاکستان بھاشا ڈیم: سنگ بنیاد ملتوی16 March, 2006 | پاکستان بھاشا ڈیم، رائلٹی اور آئینی حقوق16 March, 2006 | پاکستان بھاشا ڈیم: نام اور رائلٹی پر تنازعہ28 January, 2006 | پاکستان بھاشا ڈیم پر بھی خدشات کا اظہار 25 January, 2006 | پاکستان دریائےسندھ پر ڈیمز کے خلاف احتجاج18 January, 2006 | پاکستان ’پہلے بھاشااور منڈا ڈیم بنیں گے‘ 17 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||