BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 January, 2008, 01:14 GMT 06:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور بم دھماکہ، ہلاکتوں میں اضافہ

 دھماکے کی جگہ
ہلاک ہونے والے سولہ پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی
پاکستان کے شہر لاہور میں جمعرات کو ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے ایک بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چوبیس ہو گئی ہے۔

اس دھماکے میں پچاس سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں داخل کروایا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والے چوبیسویں شخص کا تعلق بھی پولیس سے ہے اور یوں اب اس دھماکے میں مارے جانے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد اکیس ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایس ایس پی (آپریشنز) آفتاب چیمہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو شہری اور خودکش حملہ آور شامل ہیں۔

ادھر جمعرات کی شام دھماکے میں ہلاک ہونے والے سولہ پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ہے جبکہ شہر میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔اس دھماکے کا مقدمہ بھی نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا گیا ہے اور اس واقعے کی تفتیش کے لیے ایک آٹھ رکنی تفتیشی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ دھماکے کے بعد سٹی پولیس چیف ملک محمد اقبال نے جائے وقوعہ پر موجود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس خود کش حملے کا ہدف پولیس اہلکار تھے۔

یہ دھماکہ اس مقام پر ہوا جہاں کچھ دیر بعد وکلاء کی ایک احتجاجی ریلی پہنچنے والی تھی۔ وکلاء ہر جمعرات کو حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور عدالتوں کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔

پولیس کی نفری وکلاء کی حفاظت کے لیے تعینات کی گئی تھی

وکیلوں کی ایک ریلی ایوان عدل سے ہائی کورٹ کی جانب روانہ ہوچکی تھی جبکہ ہائی کورٹ بار ایسوس ایشن کا اجلاس ختم ہونے کے بعد یہ اعلان ہوا تھا کہ وکیل ریلی کے لیے باہر نکلیں لیکن اسی دوران ایک بڑے دھماکے کی آواز سنائی دی گئی۔

جائے وقوع پر موجود انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب احمد نسیم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کی نفری وکلاء کی حفاظت کے لیے تعینات کی گئی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور پیدل تھا۔ ادھر پنجاب کے چیف سیکرٹری سلمان صدیق ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے دعوٰے کیا کہ خودکش حملہ آور کا سر مل گیا ہے اور جلد ہے اس کی شناخت کر لی جائے گی۔

عینی شاہدین
میو ہسپتال میں زیر علاج پولیس کانسٹیبل امتیاز حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیوٹی پر کھڑا تھا کہ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا اور ہر طرف دھواں چھا گیا۔ ’جب تھوڑا ہوش آیا تو اپنے ساتھی پولیس اہلکاروں کی لاشیں دیکھیں اور کئی کو زخمی حالت میں مدد کے لیے پکارتے ہوئے پایا۔‘

ندیم نامی ایک زخمی ایک رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ مال روڈ سے مڑا ہی تھا کہ دھماکہ ہو گیا اور اس کے بعد اسے کچھ ہوش نہیں رہا۔

دھماکے کے زخمیدھماکے کے بعد۔۔۔
بی بی سی کے نمائندے نے کیا دیکھا؟
پنڈی میں دھماکے کے بعد کا منظراچھی خبرکاانتظار
خود کش حملے ہی یا کوئی اچھی خبر بھی؟
دھماکے کے متاثرینخود کش حملے، تاریخ
پاکستان: پہلا خودکش حملہ 1995 میں ہوا
پاکستان اور نو گیارہ
9/11 اور پاکستان میں بدلتی ہوئی صورت حال
افغان سرحد پر پاکستانی فوجیپاکستان کا طالبان جوا
پاکستان کی افغان سرحد پر نازک پالیسی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد