لاہور دھماکے کے بعد۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دس جنوری کی کہر آلود صبح کسی بھی رپورٹر کے لیے ایک عام صبح تھی جس میں وہ اپنا قلم ، کیمرہ اور ٹیپ ریکارڈ لے کر طے شدہ خبر کی تلاش میں نکل کھڑا ہو۔ میرے لیے بھی حالات مختلف نہ تھے اور میں اپنے صحافتی کیل کانٹے سے لیس ہو کر ناصر باغ کے قریب واقع فورینزک سائنس لیبارٹری پہنچا جہاں میری اطلاع کے مطابق سکاٹ لینڈ یارڈ کی تفتیشی ٹیم بھی پہنچنے والی تھی۔ میں بے چینی سے ٹیم کی آمد کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک نواحی علاقے میں ایک زوردار دھماکہ سنائی دیا۔ پہلا گمان یہ ہوا کہ وکلاء کے ہفتہ وار احتجاجی جلوس میں کوئی واردات ہوئی ہے چنانچہ میں لیبارٹری والا کام ادھورا چھوڑ کر کسی بڑی خبر کی تلاش میں مال روڈ کی طرف بھاگا تو وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ محض ایک بڑی خبر نہیں بلکہ بڑی گمبھیر خبر تھی۔
وکلاء کی ایک ریلی ایوانِ عدل سے ہائی کورٹ کی جانب روانہ ہو چکی تھی جبکہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس ختم ہونے کے بعد یہ اعلان ہوا تھا کہ وکلاء ریلی کے لیے باہر نکلیں لیکن اسی دوران وہ قیامت خیز دھماکہ سنائی دیا۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہوا ہے۔ زندہ بچ جانے والوں کے سامنے سے دھوئیں کے بادل چھٹے تو کچھ پولیس اہلکار بے حس و حرکت پڑے نظر آئے۔ دھماکے کے بعد سڑک پر گرے پولیس اہلکاروں کے بارے میں یہ تعین کرنا مشکل تھا کہ کس کی سانسیں چل رہی ہیں اور کس کی نہیں۔ قریباً بیس منٹ بعد میرے چاروں طرف سرکاری اور نجی ایمبولینسوں کا تانتا بندھ گیا۔ ہر طرف ایمبولنس کے سائرن کی گونج اور زخمیوں کی آہ پکار سنی جا سکتی تھی۔ پولیس اہلکار اپنے ساتھی پولیس والوں کے جسم کے بکھرے حصوں کو سمیٹنے کو کوشش میں لگ گئے جبکہ بعض وکلاء بھی زخمیوں کو ایمبولنس میں منتقل کرنے میں مصروف رہے۔
جہاں زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو ہسپتال پہنچایا جارہا تھا وہیں پولیس کو یہ خطرہ بھی تھا کہ کہیں دوسرا دھماکا نہ ہوجائے اور اس خوف کی وجہ سے پولیس کی طرف سے بار بار یہ اعلان کیا گیا کہ جائے وقوعہ سے دور ہو جائیں کیونکہ ایک خود کش حملے کے بعد دوسرا حملہ ہو سکتا ہے۔ لاہورہائی کورٹ کے باہر تو کوئی دوسرا دھماکہ نہ ہوا لیکن بڑے پیمانے پر یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ میکلوڈ روڈ ، چوبرجی اور فیروز پورر روڈ کے علاقوں میں بھی دھماکے ہوئے ہیں لیکن نئے دھماکوں کی تمام اطلاعات محض افواہیں ثابت ہوئیں۔ میو ہسپتال وہاں سے زیادہ دور نہ تھا۔ وہاں جا کے میں نے دیکھا ہلاک شدگان اور زخمی ہونے والوں کے ورثاء آہ و بکا کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعدگورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد مقبول وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے وہ جملے دہرائے جو حکام ایسے موقعوں پر ہمیشہ دہراتے ہیں۔ البتہ مجھے تشویش اس بات کی تھی کہ کہیں یہ منظر لوگوں کو ایکشن ری پلے کی طرح بار بار نہ دیکھنا پڑے اور یہی بیان پھر سے نہ سننا پڑے۔ |
اسی بارے میں ’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘19 October, 2007 | پاکستان پاکستان: خودکش حملوں کی تاریخ09 November, 2007 | پاکستان چار ماہ میں آٹھ خودکش حملے28 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||