BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور بم دھماکہ، تیئس افراد ہلاک

بظاہر حملہ آور نے پولیس والوں کو ہی نشانہ بنایا
پاکستان کے شہر لاہور میں پولیس کے مطابق ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے ایک بم دھماکے میں تئیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

ایس ایس پی (آپریشنز) آفتاب چیمہ نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں بیس پولیس اہلکار، دو شہری اور خودکش حملہ آور شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد بیس سے زائد بتائی گئی ہے اور انہیں علاج کے لیے میو ہپستال پہنچایا گیا ہے۔


سٹی پولیس چیف ملک محمد اقبال نے جائے وقوعہ پر موجود صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ خود کش حملہ تھا جس کا ہدف پولیس اہلکار تھے۔ یہ دھماکہ اس مقام پر ہوا جہاں کچھ دیر بعد وکلاء کی ایک احتجاجی ریلی پہنچنے والی تھی۔ وکلاء ہر جمعرات کو حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ اور عدالتوں کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔

سرگودھا گینگ
 حکومت نے سرگودھا گینگ کے بارے میں مکمل تفصیل حاصل کر لی ہے کہ اس گروہ میں کون کون شامل ہے، تاہم ہو سکتا ہے کہ اس خودکش حملہ آور کا تعلق کسی اور گینگ سے ہو
چیف سیکرٹری پنجاب
وکیلوں کی ایک ریلی ایوان عدل سے ہائی کورٹ کی جانب روانہ ہوچکی تھی جبکہ ہائی کورٹ بار ایسوس ایشن کا اجلاس ختم ہونے کے بعد یہ اعلان ہوا تھا کہ وکیل ریلی کے لیے باہر نکلیں لیکن اسی دوران ایک بڑے دھماکے کی آواز سنائی دی گئی۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب احمد نسیم جائے وقوع پر پہنچے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں پولیس کی نفری وکلاء کی حفاظت کے لیے تعینات کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور پیدل تھا اور اس کا ہدف پولیس ہی تھی۔

میو ہسپتال کے انتظامی گیٹ پر پولیس کی ایک بھاری نفری تعینات ہے۔ ہسپتال میں زیر علاج پولیس کانسٹیبل امتیاز حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیوٹی پر کھڑا تھا کہ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا اور ہر طرف دھواں چھا گیا۔ ’جب تھوڑا ہوش آیا تو اپنے ساتھی پولیس اہلکاروں کی لاشیں دیکھیں اور کئی کو زخمی حالت میں مدد کے لیے پکارتے ہوئے پایا۔‘

ندیم نامی ایک زخمی ایک رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ مال روڈ سے مڑا ہی تھا کہ دھماکہ ہو گیا اور اس کے بعد اسے کچھ ہوش نہیں رہا۔

دھواں چھا گیا
 میں ڈیوٹی پر کھڑا تھا کہ اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا اور ہر طرف دھواں چھا گیا۔ جب تھوڑا ہوش آیا تو اپنے ساتھی پولیس اہلکاروں کی لاشیں دیکھیں
زخمی کانسٹیبل امتیاز
پنجاب کے چیف سیکرٹری سلمان صدیق نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ میں اکیس افراد ہلاک جبکہ زخمیوں میں سے پانچ کی حالت نازک ہے۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور کا سر مل گیا ہے اور جلد ہے اس کی شناخت کر لی جائے گی۔

گزشتہ سال یکم نومبر کو پاکستان ائر فورس کی بس پر حملے میں مبینہ طور پر ’سرگودھا گینگ‘ ملوث تھا۔ اس حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ کہاجا رہا ہے کہ ائر فورس بس پر حملے کا مبینہ ماسٹر مائینڈ پاک فوج کا ایک سابق میجر احسان الحق تھا، جسے اطلاعات کے مطابق نو جنوری کو چھ ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔ ان تمام کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہے۔

چیف سیکرٹری سلمان صدیق کا کہنا تھا کہ حکومت نے ’سرگودھا گینگ ‘کے بارے میں مکمل تفصیل حاصل کر لی ہے کہ اس گروہ میں کون کون شامل ہے، تاہم ہو سکتا ہے کہ اس خودکش حملہ آور کا تعلق کسی اور گینگ سے ہو۔

دھماکے کے متاثرینخود کش حملے، تاریخ
پاکستان: پہلا خودکش حملہ 1995 میں ہوا
پاکستان اور نو گیارہ
9/11 اور پاکستان میں بدلتی ہوئی صورت حال
افغان سرحد پر پاکستانی فوجیپاکستان کا طالبان جوا
پاکستان کی افغان سرحد پر نازک پالیسی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد