علی احمد خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پاکستان |  |
| | یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ موجودہ حکومت کے تحت شاید الیکشن نہ ہو سکیں |
پاکستان میں ایک بار پھر انتخابات سے متعلق اندیشے ظاہر کیے جانے لگے ہیں اور نت نئی تجاویز سامنے آنے لگی ہیں جس سے یہ اندیشہ بڑھتا جارہا ہے کہ یہ انتخابات موجودہ انتظامات کے تحت نہ ہو سکیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کے سربراہ میاں نواز شریف نے لاہور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے صدر مشرف کے بغیر قومی مصالحت کی ایک حکومت قائم کی جائے اور سپریم کورٹ کے سابق سینئر جج جسٹس رانا بھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر بنایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اس کے لیے انتخابات میں مزید کچھ تاخیر ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کو بھی شاید اس پر اعتراض نہ ہو۔ مسلم لیگ نواز کے حلقوں میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو نگراں قومی حکومت کا سربراہ بنایا جائے لیکن پیپلز پارٹی کے حلقوں میں اس تجویز کو پذیرائی حاصل نہیں۔ جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد اور تحریک انصاف کے عمران خان اور ملی عوامی پارٹی کے رہنما جناب محمود خان اچکزئی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان تو پہلے ہی کرچکے ہیں اب وہ صدر مشرف سے کسی طرح کے مذاکرات کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کی جمیعت علماءاسلام میں انتخابات کے بائیکاٹ کے حق میں ایک مضبوط گروپ ابھر رہا ہے اور اگر مولانا فضل الرحمٰن نے کسی مرحلے پر محسوس کیا کہ وہ انتخابات میں خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں گے تو وہ بھی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیں گے۔  | | | کچھ اپوزیشن رہنما صدر مشرف سے کسی طرح کے مذاکرات کے لیے بھی تیار نہیں ہیں |
دوسری جانب محترمہ بینظیر کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی بھی داخلی بحران سے دوچار ہے اور اگرچہ اس کا اظہار برملا نہیں کیا جارہا ہے لیکن پارٹی کے بعض بااثر رہنما اور کارکنوں کا خیال ہے کہ آصف زرداری نے جس طرح پارٹی کی قیادت سنبھالی ہے اس سے پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ مسلم لیگ( ق) بھی اس مسئلے کو بار بار اچھال رہی ہے۔اس طرز عمل سے پیپلز پارٹی کے لیے سول سوسائٹی، صحافیوں اور وکلا برادری میں جو ایک ہمدردی پائی جاتی تھی اس میں بھی کمی آئی ہے۔ اگرچہ محترمہ بینظیر کی ہلاکت کے بعد پیپلز پارٹی کے لیے ہمدردی کے ووٹ کی توقع کی جارہی تھی اور عین ممکن تھا کہ اگر 8 جنوری کو انتخابات ہو جاتے تو یہ ووٹ مل جاتا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمدردی کی اس لہرکی شدت کم ہو رہی ہے بالخصوص پنجاب، صوبہ سرحد اور بلوچستان میں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی اس کا احساس ہو چلا ہے چنانچہ اب انتخابی مہم سے زیادہ محترمہ کے قتل کی تحقیقات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ وکلاء اور صحافیوں کی تحریک کی شدت میں بظاہر کمی آئی ہے لیکن یہ ختم نہیں ہوئی ہے اور کسی وقت بھی شدت اختیار کر سکتی ہے۔  |   محترمہ بینظیر کی ہلاکت کے بعد پیپلز پارٹی کے لیے ہمدردی کے ووٹ کی توقع کی جارہی تھی اور عین ممکن تھا کہ اگر 8 جنوری کو انتخابات ہو جاتے تو یہ ووٹ مل جاتا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمدردی کی اس لہرکی شدت کم ہو رہی ہے  |
ادھر ملک میں امن عامہ کی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے اور خراب ہوتی جارہی ہے۔کراچی اور لاہور میں خود کش حملوں کے بعد ، دہشت گردی کی وارداتوں سے اب ملک کا کوئی حصہ محفوظ نہیں رہا۔ آٹے کا بحران بھی حکومت کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود بڑھتا جارہا ہے۔ امریکی میڈیا اورحکومتی اداروں میں بھی صدر مشرف پر تنقید میں اضافہ ہورہا ہے اور پاکستان کے جوہری اسلحہ کے ذخائر سے متعلق غیر ضروری خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ پھر اپنے مستقبل کے بارے میں خود صدر مشرف کےلب و لہجے میں پہلے جیسا کر و فر محسوس نہیں ہوتا۔ چنانچہ بار بار یہ یقین دلا رہے ہیں کہ جو بھی حکومت منتخب ہو کر آئےگی وہ اس سے تعاون کریں گے اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر ان کی پالیسیوں کو بدلنے کی کوشش کی گئی تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔ اس صورتحال میں انتخابات کے بارے میں غیر یقینی تو بڑھ ہی رہی ہے، صدر مشرف اور موجود حکومت کے مستقبل کے بارے میں بھی شکوک و شبہات ظاہر کیے جا نے لگے ہیں اور یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ موجودہ حکومت کے تحت شاید الیکشن نہ ہو سکیں۔ |