BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 January, 2008, 14:49 GMT 19:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الیکشن کمشنر بھگوان داس: نواز

میاں نواز شریف
میاں نواز شریف نے مطالبات نہ مانے جانے کی صورت میں بھی انتخابات میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ جنرل مشرف اپنا عہدہ چھوڑ دیں اور بھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر بنا کر عام انتخابات کروادیے جائیں تو اس ملک سے پچانوے فیصد بم دھماکے ختم ہوجائیں گے۔

انہوں نے ایک ایسی قومی حکومت بنانے کی تجویز پیش کی جس میں جنرل مشرف شامل نہ ہوں۔ یہ بات انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ نواز کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ نئی قومی حکومت کے لیے ان کی شرط ہے کہ صدر مشرف اپنا عہدہ چھوڑ دیں اور چیئرمین سینیٹ آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد قومی حکومت تشکیل دیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ عبوری حکومت کا مطالبہ صرف اس لیے کر رہے ہیں تاکہ انتخابات منصفانہ اور شفاف کروائے جاسکیں البتہ اس کے لیے ضرورت پڑی تو اٹھارہ فروری کے انتخابات بھی ملتوی کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم میاں نواز شریف نے کہا کہ یہ انتخابات انتہائی مختصر مدت کے لیے ملتوی کیے جائیں اور نئے سیٹ اپ کو آئین کے مطابق انتخابی شیڈول کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ قومی مفاہمت کی فضا میں پھر ان انتخابات میں قاضی حسین احمد، عمران خان، قوم پرست جماعتوں کی تنظیم ’پونم‘ سمیت اے پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں بھی اس میں شامل ہوجائیں۔

میاں نواز شریف نے صدر مشرف کے اس حالیہ بیان کو مسترد کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی پالیسیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر مشرف کے عزائم پورے نہیں ہونے دیں گے کیونکہ ان کے بقول وہ ملک کو بحران کی جانب لے جا رہے ہیں۔

نواز شریف نے ریٹائرڈ جسٹس بھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر بنائے جانے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ صدر مشرف ہٹ جائیں اور بھگوان داس چیف الیکشن کمشنر بنادیے جائیں تو ملک میں پچانوے فی صد دھماکے ختم ہوجائیں گے اور ملک میں صاف و شفاف انتخابات کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر منصفانہ انتخابات ہوگئے تو ملک کے پچانوے فی صد مسائل بھی حل ہوجائیں گے اور سیاسی رہمناؤں کو اس سیکیورٹی کی بھی ضرورت نہیں رہے گی جس کی فراہمی کا حکومت دعوٰی کر رہی ہے۔

میاں نواز شریف نے اپنی سیکیورٹی کے حکومتی انتظامات کو ناکافی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اصل سیکیورٹی صرف وہی ہے جو ان کی پارٹی کے لوگ اپنے طور پر کررہے ہیں۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ اپنے اس عہد پر قائم ہیں کہ عدلیہ کی دونومبر والی پوزیشن بحال کی جائے۔

میاں نواز شریف نے واضح کیا کہ اگر نئی عبوری حکومت کے ان کے مطالبات تسلیم نہ ہوئے تب بھی وہ انتخابات میں حصہ لیں گے تاہم ان کے بقول موجودہ حالات میں ہونے والے عام انتخابات ملک کو مزیدانتشار کی جانب لے جائیں گے اور اس قسم کا بحران پیدا ہوگا جس سے نکلنا مشکل ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن پر مامور عملے کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جارہی ہے اور جو عملہ گڑبڑ میں ملوث پایا گیا اسے کڑے احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

میاں نواز شریف سے بھارتی ہائی کمشنر ستیہ براتہ پال نے ان کے رائے ونڈفارم ہاؤس پر ملاقات کی ہے۔ ہائی کمشن کے ترجمان سنجےماتھر نے اس ملاقات کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں اور کہا کہ ملاقات کے بعد انڈین ہائی کمشنر واپس اسلام آباد آگئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد