’عدلیہ پر حملے سے ملک بدنام ہوا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو عدلیہ کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار نہیں تھا۔’مشرف کے اقدامات کی وجہ سے دنیا پاکستان پر ہنستی ہے اور پاکستان دنیا بھر میں مذاق بن گیا ہے‘۔ نواز شریف صوبہ سندھ میں انتخابی دورے کے دوسرے دن کراچی سے سکھر کے ہوائی اڈے پر پہنچے تو سینکڑوں کارکنان نے ان کا استقبال کیا۔ نواز شریف نے سکھر کے گھنٹہ گھر چوک پر انتخابی اجتماع سے خطاب کیا جس میں انہوں نے اپنی تقریر میں صدر مشرف کو سخت تنقید کانشانہ بنایا۔ نواز شریف نے ہند ستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہندستان میں کبھی کوئی مارشل لاء آیا نہ کسی جرنیل نےمتنخب اسمبلی توڑی۔ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں فوجی مداخلت کی رسم اور رواج صرف پاکستان میں ہے۔نواز شریف نےکہا کہ انہوں نے پاکستان فوج کے سیاسی کردار کا ہمیشہ کےلیے ختم کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔اور عوام اس جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں۔
انہوں نےکہا کہ آٹھ جنوری فیصلے کا دن ہے ۔اسی دن فیصلہ ہوگا کہ پاکستان عوام کی ملکیت ہے یا چند فوجی جرنیلوں کی ۔نواز شریف نے عوام سے کہا کہ وہ انتخابات کے دن درست فیصلہ کریں گے تو پاکستان میں سے کوئی دوسرا بنگلہ دیش نہیں بنے گا۔اگر عوام نے غلط فیصلہ کیا تو پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ نواز شریف کے حفاظتی انتظامات پنجاب پولیس کے دستوں نے سنبھالے ہوئے تھے۔ انہوں نے سندھ کی عوام کی سوچ کو جمہوری قرار دیا اور کہا کہ سندھ میں جمہوری سوچ پوری پاکستان سے منفرد ہے اور وہ اسے پسند کرتےہیں۔ نواز شریف نےبینظیر بھٹو یا پیپلز پارٹی پر براہ راست کوئی تنقید نہیں کی مگر انہوں نےمشرف بینظیر ڈیل کی طرف اشارہ ضرور کیا۔نواز شریف نےکہا کہ انہیں چودہ ماہ قید میں رہنےکی ضرورت نہیں تھی اگر وہ ڈیل میں یقین رکھتے۔ان کےمطابق وہ بھی مشرف یا فوج سےکوئی ڈیل کرسکتے تھے مگر انہیں عوام کا سودا کرنا پسند نہیں تھا ۔ نواز شریف نے اپنی تقریر میں معزول ججوں کا ذکر کیا اور کہا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس بھگوان داس جیسے جج سونے میں تولنے کے برابر ہیں نہ کہ معزول کرنے کے لائق۔ نواز شریف نے بتایا کہ پیر کی صبح فون پر ان کی جسٹس بھگوان داس سے بات چیت ہوئی اور جسٹس بھگوان نے انہیں بتایا کہ ججوں نےکوئی غیر آئینی قدم نہیں اٹھایاتھا۔ نواز شریف نےاپنی تقریر میں آٹے اور گھی کی مہنگائی کا ذکر کیا اور لوگوں کو بتایا کہ مشرف کےدور میں مہنگائی ہوئی ہے۔ نواز شریف نے سندھ کےسابق وزیر اعلی سید غوث علی شاہ کی اہلیہ کی وفات پر خیرپور میں ان کے بیٹے سے تعزیت کی۔ انہوں نے پنوں عاقل،گھوٹکی اور ڈہرکی میں بھی عوامی اجتماعات سے مختصر خطاب کیا۔ پنوں عاقل میں انہوں نے اپنی تقریر کے آخر میں عوام سے کہا کہ وہ بینظیر کا ساتھ دیں مگر مشرف کے ساتھی ق لیگ والوں کا ساتھ ہرگز نہ دیں۔ |
اسی بارے میں انتخابات، جماعتیں اور منشور17 December, 2007 | پاکستان شریف برادران کی درخواست مسترد17 December, 2007 | پاکستان ایمرجنسی لگانے کے مقاصد پورے ہو گئے: مشرف15 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||