عام انتخابات: اقلیتوں کے لیے بہتر کیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی اقلیتیں یہ طے نہیں کر پائیں کہ ان کے لیے مشترکہ انتخابات بہتر ہیں یا جداگانہ؟ انیس سو اکہتر تک الیکشن مشترکہ نظام انتخاب کے تحت ہوتے رہے مگر جنرل ضیا الحق نے مارشل لا کے نفاذ کے بعد جداگانہ انتخابات کا نظام متعارف کرایا اور ووٹر مسلم اور غیر مسلم میں تقسیم ہوگئے۔ کئی حکومتیں آئیں اور گئیں، مگر کوئی بھی یہ نظام تبدیل نہ کر سکا آخر ایک فوجی حکمران کے متعارف کرائے گئے نظام کا دوسرے فوجی حکمران نے ہی خاتمہ کیا ۔ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو جب انتخابات کی ضرورت پڑی تو انہوں تیس سال کے بعد مشترکہ انتخابات کا نظام نافذ کیا اور دو ہزار دو کے الیکشن اسی کے تحت ہوئے۔ اس نظام کے سب سے زیادہ اثرات سندھ کےصحرائی ضلع تھرپارکر اور عمرکوٹ میں دیکھےگئے جہاں تقریبا اٹھارہ لاکھ آبادی میں سے تقریبا پچاس فیصد لوگ ہندو ہیں اور اس غریب علاقے میں سب سے زیادہ غریب بھی یہ ہی لوگ ہیں۔
بعض اقلیتی رہنما مشترکہ انتخابی نظام کے مخالف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جداگانہ نظام انتخاب سے اقلیتی عوام اپنے امیدوار براہ راست منتخب کرتے تھے اور وہ ان کے سامنےجوابدہ بھی ہوتے تھے۔ ان کے حامیوں میں مینگھواڑ قبیلے سے تعلق رکھنے والےڈاکٹر کھٹو مل بھی شامل ہیں جو تین مرتبہ رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر کھٹو مل کا کہنا ہے کہ ’جداگانہ نظام انتخاب میں ووٹر اپنے نمائندے خود منتخب کیا کرتے تھے اور یہ نمائندے اپنے ووٹروں کے سامنے جوابدہ ہوتے تھے۔ پہلی مرتبہ بھیل ، کولھی اور مینگھواڑ کمیونٹی کے نمائندہ لوگ ایوانوں تک پہنچے، جو مسائل کا شکار ہیں وہ لوگ شہروں میں نہیں دیہاتوں میں رہتے ہیں۔
’ایک رکن قومی اسمبلی کا حلقہ پورا ملک اور رکن صوبائی اسمبلی کا حلقہ پورا صوبہ ہوا کرتا تھا، جس وجہ سے یہ ان کے لیے ممکن نہیں تھا کہ تمام ووٹروں تک رسائی حاصل کرسکیں اس کے برعکس اب علاقے کا امیدوار ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ باقی کمیونٹیز سے ان کے مسائل مختلف ہیں مگر ان مسائل کو حل کرنے کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ ان کو الگ کردیا جائے۔‘ ڈاکٹر کھٹو مل کہتے ہیں کہ جب لوگ انہیں منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھیجتے تھے تو اقلیتوں کے مسائل یا کہیں زیادتی ہوتی تھی تو اس کے خلاف ایوان میں ایک آواز اٹھتی تھی دو ہزار دو کے بعد وجود میں آنے والی پارلیمنٹ میں جماعتوں نے جو ممبر نامزد کرکے بھیجے ہیں ان میں سے کبھی کسی نہ کوئی آواز نہیں سنی۔ بھیرو مل ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ درحقیقت موجودہ نظام میں اقلیتوں کی حقیقی نمائندگی سامنے نہیں آرہی ہے، سیاسی جماعتوں نے جو اقلیتوں کی مخصوص نشستیں رکھی ہوئی ہیں وہ جاگیردار اور سرمایہ دار لوگوں کو دی جاتی ہیں جن کی عوام میں جڑیں نہیں ہوتی ہیں۔ مشترکہ انتخابات کے نظام کے لیے انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی سرگرم رہی مگر مخلوط انتخابات کی بحالی سے اقلیتوں کی فلاح اور ترقی پر کوئی نمایاں فرق نظر نہیں آتا۔
پانی کی یہ لائن تھر کول ایریا کے لیے بچھائی گئی تھی مگر راستے میں آنے والے کچھ دیہاتوں کو اس میں سے پانی دیا گیا۔ ایک ماہ میں دو مرتبہ چند گھنٹوں کے لیے مکینوں کو دریا کا پانی ملتا ہے۔ باقی ضروریات یہ لوگ کنویں کے کھارے پانی سے پوری کرتے ہیں۔ یہاں کے رہائشی کسان چھینو مل کا کہنا ہے کہ ان کی تو کوئی پارٹی نہیں ہے وہ پٹیل ( گاؤں کی معززشخیصت) کے کہنے پر ووٹ دیتے ہیں، سہولت تو انہیں ملتی ہیں جو بڑے آدمی ہوں وہ تو غریب لوگ ہیں۔ تھر سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کا حلقہ انتخاب بھی رہا ہے۔ مگر ان کی کارکردگی سے یہاں کے لوگ مطمئن نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں صاحبان ووٹ لینے کے بعد ایوانوں کی ٹھنڈی ہواؤں میں تپتے اور پیاسے صحرا کے لوگوں کی مشکلاتیں بھول گئے۔ ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ ووٹ کے وقت ہی علاقے کے بڑے بڑے نام نظر آتے ہیں ووٹ لینے کے بعد تو کبھی پیچھے مڑکر نہیں دیکھتے کہ کیا حال ہے۔ تھر میں ہر دوسرے سال قحط کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوتی ہے۔ لوگ تلاش روزگار میں بیراجی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ ان میں اکثریت شیڈول کاسٹ اقلیتی لوگوں کی ہوتی ہے۔ جن میں خاص کر غریب میگھواڑ، بھیل اور کولھی قبائل شامل ہیں۔ پرائمری ٹیچر کیول رام کا کہنا ہے کہ ان کی معاشی حالت پہلے ہی کمزور ہے اور یہاں کوئی کارخانہ نہیں ہے اور روزگار کا بھی کوئی وسیلہ بھی نہیں ہے جس وجہ سے وہ مجبور ہوکر نقل مکانی کرتے ہیں۔ حالیہ سال بارشوں کے بعد فصلیں اچھی ہوئی ہیں، مگر ان کی قیمتیں اتنی گرا دی گئی ہیں کہ کھیتی باڑی کا خرچہ بھی نہیں نکل پا رہا ہے۔ یہاں باجرہ، گوار، تل اور مونگ کح فصلیں ہوتی ہیں۔ کسان چھینو مل کا کہنا ہے کہ دام بہت کم مل رہا ہے غریب کے لیے یہاں کوئی فائدہ نہیں اگر حکومت کوشش کرے تو ایک ہی دام ہوں، ’ایک دن دام ہزار رپیہ من ہے جب اناج لیکر جاتا ہوں تو کہتے ہیں کہ دام کم ہوگیا مجھے کیا پتہ ایسا کیوں ہوا کوئی بتاتا بھی نہیں ہے۔‘ ملک میں کوئلے کا سب سے بڑا ذخیرہ بھی اس علاقے میں ہے۔ جس سے کئی نوجوانوں کی امیدیں وابستہ رہیں مگر دس سال گزرنے کے بعد بھی اس منصوبے پر عملد آمد نہیں ہوسکا اور صرف ایم او یوز ہی سائن ہوتے رہے ہیں۔ وزیر اعظم شوکت عزیز کے تھر پیکیج کے اعلان اور ارباب غلام رحیم وزارت اعلی کے باوجود صحرائےتھر کی ایک بڑی آبادی آج بھی پینے کے میٹھے پانی، بجلی اور ٹرانسپورٹ کی سہولت سے محروم ہے۔ تھر کے قریبی ضلع امرکوٹ میں بھی اقلیتوں ہندوں کی حالت کچھ خاص مختلف نہیں ہے، مگر یہاں دیگر علاقوں کی نسبت وہ معاشی طور پر کچھ قدر مضبوط اور سماجی سیاسی طور پر کمزور ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ سید مظفر حسین شاہ کے دور میں امرکوٹ سے عمرکوٹ بننے والے اس ضلع کی آبادی چھ لاکھ افراد سے زیادہ ہے۔ یہاں کے رہائشی سنبھو دت مالھی کا کہنا ہے کہ پہلے ووٹ لینے والے اور دینے والے دونوں ہندو ہوتے تھے مگر اس امیدوار کی چلتی نہیں تھی۔ اکثریتی کمیونٹی کے سامنے محتاج ہوتے تھے اگر ان کے پاس جاتے تھے تو وہ یہ کہتے تھے جس کو ووٹ دیا ہے اسی کے پاس جائیں ۔ مگر اس سے اتنا فرق پڑا ہے کہ یہ لوگ اب ہمیں بھی اپنا ووٹر سمجھتے ہیں۔ برصغیر کو جب لکیریں لگاکر تقسیم کیا گیا تو بھارتی راجستھاں اور گجرات سے تاریخی اور ثقافتی طور پر جڑے یہ اقلیتی لوگ پاکستان کے حصے میں آگئے مگر ان کی قسمت کی لیکیریں آج تک دھاندلی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||