BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 12 February, 2008 - Published 10:26 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہاشمی، شاہ محمود یا رائے منصب

ملتان کا معرکہ
مسلم لیگ نون عدلیہ کی آزادی اور حالیہ مہنگائی کو حریفوں پر بھرپور انداز میں حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں
پاکستان کے آبادی سے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے جنوبی اضلاع کے اکثر حلقوں میں تکونی جبکہ بعض میں ون ٹو ون مقابلے ہو رہے ہیں۔ اصل معرکہ مسلم لیگ قاف اور نون کے علاوہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے درمیان متوقع ہے۔

ستائیس دسمبر کو راولپنڈی میں بےنظیر بھٹو کی ہلاکت سے قبل پنجاب کی حد تک مقابلہ زیادہ تر قاف اور نون میں تصور کیا جا رہا تھا لیکن اب پیپلز پارٹی کے امکانات بھی مزید بڑھ گئے ہیں۔

سب سے اہم، دلچسپ اور کانٹے کا ٹکراو ملتان کے این اے 148 پر متوقع ہے۔

این اے ایک سو اڑتالیس پر تین دو قومی اور ایک صوبائی سطح کے اہم سیاستدانوں میں مقابلہ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مخدوم جاوید ہاشمی کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر مخدوم شاہ محمود قریشی اور مسلم لیگ (ق) کے سابق صوبائی وزیر رائے منصب علی خان کے ساتھ انتخابی تصادم ہے۔

ان امیدواروں کی انتخابی مہم پولنگ کا دن قریب آنے کے ساتھ ساتھ تیز ہوتی جا رہی ہے۔ مخدوم جاوید ہاشمی وہ سیاستدان ہیں جو قومی اسمبلی کے چار حلقوں سے انتخابی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہیں ان کی جماعت نے ملتان سے دو حلقوں کے علاوہ لاہور اور راولپنڈی سے بھی میدان میں اتارہ ہے۔

مسلم لیگ قاف کی پالیسیوں کو جنوبی اضلاع کی پسماندگی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے
ان پر ان چار حلقوں میں بیک وقت انتخابی مہم چلانے کے آثار قدرے واضع ہوتے جا رہے ہیں۔ پرجوش تقاریر کرتے کرتے پچاس سالہ جاوید ہاشمی کی آواز بیٹھ چکی ہے اور کئی کئی راتوں سے بستر پر نہیں سوئے۔ کبھی پنڈی تو کبھی لاہور اور کبھی ملتان۔

اس بھاگ دوڑ کا احساس انہیں بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک حلقہ پنجاب کے انتہائی شمال تو دوسرا جنوبی پنجاب میں جبکہ تیسرا مرکزی پنجاب میں ہے لیکن چونکہ پارٹی نے انہیں ہدف دیا تو انہوں نے اسے قبول کر لیا۔

وہ اس تاثر سے متفق نہیں کہ چار حلقوں کی وجہ ہارنے کا خوف ہے۔ ’اگر میں نے صرف جیتنا ہوتا تو میں صرف لاہور سے لڑ لیتا لیکن یہ تو اعزاز کی بات ہوتی ہے سیاسی جماعتوں میں۔ پارٹی سمجھتی ہے کہ اسے اپنا پیغام مضبوط انداز میں عوام تک پہنچانے کے لیئے یہ کرنا پڑتا ہے۔‘

مسلم لیگ نون عدلیہ کی آزادی، سابق حکومت کی ووٹروں میں گیس یا بجلی کی فراہمی میں ناکامیوں اور حالیہ مہنگائی کو حریفوں پر بھرپور انداز میں حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے جلسوں میں ’وزیر اعظم جاوید ہاشمی، وزیر اعظم جاوید ہاشمی‘ جیسے نعرے بھی لگ رہے ہیں۔

اس نعرے کی وجہ ایک تو نواز شریف اور شہباز شریف کا انتخابات سے باہر ہونا اور ماضی میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے خلاف ان کا متحدہ حزب اختلاف کا جیل میں ہونے کے باوجود وزیر اعظم کا مشترکہ امیدوار ہونا بتایا جاتا ہے۔ تاہم جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ انہیں یہ عہدہ حاصل کرنے کی ابھی کوئی امید نہیں لیکن ساتھ میں یہ بھی واضع کر دیا کہ سیاست میں امکانات لامحدود ہوتے ہیں۔

مسلم لیگ قاف برادری اور خاندانی سیاست پر بھی کافی زور دے رہی ہے
ان کی انتخابی مہم کا واحد عنصر جو ان کے خلاف جاسکتا ہے وہ ہے ان کا چار حلقوں سے انتخاب۔ ووٹر کو خدشہ ہوسکتا ہے کہ کہیں منتخب ہونے کی صورت میں وہ یہ نشست نہ رکھیں اور ان کے مسائل کے حل میں مشکل درپیش آئے۔

ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کا ایک بڑا نام مخدوم شاہ محمود قریشی ہیں۔ وہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کی وجہ سے بظاہر ہمدردی ووٹ کی توقع کر رہے ہیں۔ وہ ووٹروں کو مسلم لیگ قاف کی پالیسیوں کو جنوبی اضلاع کی پسماندگی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔

انہیں تاہم اصل خطرہ مسلم لیگ قاف سے ہی ہے کیونکہ مسلم لیگی امیدوار رائے منصب علی اپنے جلسوں میں آصف علی زرداری کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ مسلم لیگ نون کو پیپلز پارٹی کی ’بی ٹیم‘ قرار دیتے ہوئے زیادہ اہمیت نہیں دے رہے بلکہ بعض اوقات تو اپنی تقاریر میں اس پارٹی کا ذکر تک بھی نہیں کرتے۔

رائے منصب علی جو گزشتہ صوبائی حکومت میں محض آخری دو ماہ کے لیے وزیر بھی مقرر ہوئے ووٹروں کو پیپلز پارٹی کو اب ایک لوٹ مار کا گروہ بن جانے جس کی قیادت آصف علی زرداری کر رہے جیسے الزامات سے ڈرا رہے ہیں۔ وہ جنوبی پنجاب کے لیے سابق حکومت کی جانب سے ایک سو سترا ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے منظور کرنے کے دعوے بھی کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ رائے منصب علی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے لیکن بعد میں اسمبلی میں مسلم لیگ قاف میں شامل ہوئے۔

مقامی ناظمین کی جانب سے مدد کے الزامات کو مسلم لیگ قاف کے رہنما مسترد کرتے ہیں۔ رائے منصب کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے تحصیل ناظم ہیں تاہم ان کے ساتھ مہم میں دکھائی نہیں دے رہے۔ انکے صوبائی امیدوار ملک مظہر عباس کے برخوردار بھی ناظم ہیں اور وہ بھی موجود نہیں ہیں۔

صدر پرویز مشرف مسلم لیگ کے سرپرست اعلی قرار دیئے جاتے رہے ہیں لیکن اب اس جماعت کے امیدواروں کی مہم میں دکھائی نہیں دے رہے۔ نہ ان کا ذکر ہے نہ کوئی تصویر۔ رائے منصب علی خان بھی ان کو صدر منتخب کروانے کے لیے ان کے حق میں ووٹ دے چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ان کا اب بھی احترام اور عزت کرتے ہیں لیکن ان کا اب جماعت کی پالیسیوں سے کوئی تعلق نہیں۔

مسلم لیگ قاف برادری اور خاندانی سیاست پر بھی کافی زور دے رہی ہے۔ ان کا کارکردگی کی بنیاد پر انتخاب لڑنے کی بجائے زرداری کو ہدف بنانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ جنوبی اضلاع کے بہت سے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔

ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ووٹر عدلیہ کی بحالی کے وعدے کا ساتھ دے گا، بےنظیر بھٹو کی ہلاکت پر افسوس کرے گا یا علاقے کی ترقی کے دعوے قبول کرے گا۔

اسی بارے میں
پی پی پی کا بڑھتا جوش
11 February, 2008 | الیکشن 2008
’انتخابات شفاف نہیں ہونگے‘
11 February, 2008 | الیکشن 2008
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد