انتخابات میں حسب نسب آج بھی اہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’دو چار مربے زمین کا مالک اگر ایک مربہ فروخت کرکے انتخاب لڑے تو کھائے کیا اور پیئے کیا۔‘ یہ الفاظ ہیں جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے کسان اللہ دتہ کے جو پاکستان کے چھ ایکڑ سے کم زرعی اراضی رکھنے والے چھوٹے کاشت کاروں میں سے ایک ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے اور زرعی صوبے پنجاب میں ایک اندازے کے مطابق اللہ دتہ جیسے تقریباً چھ ایکڑ تک زمین کے مالک کاشت کاروں کی تعداد سولہ فیصد ہے۔ ساٹھ ایکڑ تک اراضی کے مالکوں کی تعداد انہتر فیصد بتائی جاتی ہے جبکہ صرف پندرہ فیصد وہ لوگ ہیں جو ساٹھ ایکڑ سے زائد اراضی کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ سیاست پر بھی مکمل گرفت رکھتے ہیں، انہیں جاگیر دار کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ملک میں تین مرتبہ زرعی اصلاحات کی وجہ سے زرعی اراضی کم ہوکر سو ایکڑ نہری جبکہ دو سو ایکڑ بارانی تک کم کر دی گئی ہے لیکن اس سے بڑے جاگیرداروں کے اثر و رسوخ میں بظاہر قدرے کمی آئی ہے لیکن اس اقلیت کے سیاست میں کردار میں نہیں۔ جنوبی پنجاب میں آج بھی جاگیرداروں، وڈیروں اور سرداروں کا انتخابی سیاست میں اہم کردار ہے اور اس میں وقت گزرنے سے ساتھ کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ انتخابات میں حصہ لینا انہیں کا کام ہے کوئی عام آدمی یا زمیندار اس کی جرات نہیں کرسکتا۔ حکومت میں باآسانی آنے کی وجہ سے وہ ایسی پالیسیاں ترتیب دیتے ہیں جن سے ان کا اپنا فائدہ زیادہ اور درمیانے یا چھوٹے زمیندار کا کم ہوتا ہے۔
اللہ دتہ کو شکایت ہے کہ ماضی میں ان کے ووٹ سے چھوٹے زمینداروں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ’ہمیں تو نقصان ہوا ہے۔ حکومت نے تو ہمارے بارے میں سوچا ہی نہیں۔ اس نے تو بڑے جاگیرداروں کا فائدہ کیا ہے۔‘ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ اللہ دتہ مکمل ناامید نہیں ہوئے اور ووٹ ضرور ڈالیں گے۔ ’شخصیت کو دیکھ کر ووٹ دوں گا جس میں ملک کا بھلا ہو۔‘ علاقے سے صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑنے والے پیپلز پارٹی کے مخدوم شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ جاگیرداری اور پیر مرشدی اب بھی اہم ہے لیکن اب ہر کسی کو اپنے ووٹ کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ ’ان انتخابات میں دیہی علاقوں میں جیت انتہائی اہم ہوگی۔‘ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر اور مرکزی مجلس عاملہ کے رکن مخدوم شاہ محمود قریشی ملتان سے بھی قومی اسمبلی کی نشست کے لیے میدان میں ہیں۔ ’یہاں برادری یا خاندانی پن ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں خالصتاً پیپلز پارٹی کے نظریات کی بنیاد پر انتخاب لڑ رہا ہوں یا پھر اپنی ماضی کی کارکردگی اور نیک نامی کی وجہ سے۔‘ ملتان میں قریشی کے خاندان کی بنیاد سات سو سال قبل شاہ محمود کے صوفی آباو اجداد نے رکھی تھی اور اس خاندان کے لیے عقیدیت کا سلسلہ آج بھی قائم ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ملتان کے گردو نواح میں وسیع زرعی اراضی ہے۔ یہی دو وجوہات انہیں ایک مضبوط امیدوار بناتی ہیں۔ شاید انہیں دو وجوہات کی بنیاد پر وہ یہ نشست انیس سو ترانوے سے جیتتے آ رہے ہیں۔
لیکن بعض چھوٹے کاشت کار جاگیرداروں کے اثرو رسوخ کی ایک وجہ ان کے پاس موجود ’تھانے کچہری‘ کی طاقت کو بھی مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی مخالفت کرنے والوں کو یہ لوگ پولیس کے ذرائع قابو میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی جاگیردار قانون بھی ہیں اور جج بھی۔ تاہم کچھ لوگوں کے خیال میں یہ تاثر اب درست نہیں رہا۔ بعض کے خیال میں ریاست کا کنٹرول مضبوط ہوا ہے تو کئی کے خیال میں ان سے بھی زیادہ مضبوط ’مافیاز‘ نے ان کی جگہ لے لی ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو چھپن سے میدان میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام بھی مخدوم شاہ محمود قریشی جیسا پس منظر رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ متعدد زرعی اصلاحات کے بعد تو جاگیرداری رہی ہی نہیں۔ ’جاگیرداری کی تقسیم سے قبل اگر بات کریں تو شاید درست ہو آج تو تمام کاشت کار مقروض ہیں۔ میں کسی ایسے کاشت کار کو نہیں جانتا ہوں جو پیسے کے زور پر انتخاب جیتا ہو۔‘ ان کا موقف ہے کہ آج کا اصل طاقت ور مافیا تو وہ ہے جس نے ٹیکس چرانے اور اربوں روپے بنک قرضے معاف کروانے والے آج کل ایوانوں تک پہنچے ہیں ان سے خطرہ زیادہ ہے۔ سید فخر امام کہتے ہیں کہ جاگیرداری تو ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے۔ ’ان سے زیادہ تو فوجی آمر اور سول نوکرشاہی کی دہنیت زیادہ جاگیردارانہ تھی جنہوں نے آئین و قانون کی نفی کی۔‘ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اب اراضی کی وسعت کی بات نہیں جب تک وہ لوگوں کی خدمت نہیں کریں گے انہیں کوئی ووٹ نہیں دے گا۔ ’وہ اپنا وقت دیتے ہیں، خون پسینہ لگاتے ہیں۔ ان کی بات تو آپ کرتے ہیں لیکن اربن سپر فیوڈل کی کوئی بات نہیں کرتا۔‘ تو آخر جاگیرداری کا انتخابات کے ذریعے خاتمہ کیا ممکن نہیں؟ ماضی میں اکا دکا چھوٹے کاشت کار اپنی جمع پونجی داؤ پر لگا کر جیت بھی گیا تو مارشل لاء یا حکومتوں کے خاتمے نے اس کی دوبارہ انتخاب میں حصہ لینے کی سکت ختم کر دی۔ مسلم لیگ نواز کے امیدوار اور رہنما مخدوم جاوید ہاشمی کی رائے ہے کہ جمہوریت کا تسلسل ہی اسے کمزور کر سکتا ہے۔ ’جمہوری عمل ہی نئی قیادت سامنے لاسکتا ہے۔‘ تاہم مبصرین کے خیال میں اب ووٹر فیصلہ کرنے سے قبل آخری وقت تک انتظار کرتا ہے۔ ملتان کے سینئر صحافی جمشید رضوانی کہتے ہیں کہ اکثر لوگ فیصلہ اس بات کا تعین کرنے کے بعد کرتے ہیں کہ کون مضبوط ہے ضرور جیتے گا تاکہ بعد میں انہیں پولیس کچہری کے مسائل کے حل میں مدد دے سکے۔ موجودہ حالات میں بھی توقع کی جا رہی ہے کہ جاگیردارانہ اور مضبوط خاندانی پس منظر کی لوگ ہی منتخب ایوانوں میں دیکھے جائیں گے۔ یہ انتخابات اس بابت کوئی زیادہ مختلف نہیں ہوں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||