BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 12 February, 2008 - Published 01:37 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چیکوں کی تقسیم، حقائق نامہ جاری

 ن لیگ حقائق نامہ
مسلم لیگ نواز نے حقائق نامہ میں پرل پول رگنگ کے’ ٹھوس شواہد‘ دیے ہیں
غریب اور نادار لوگوں کے لیے حکومت پنجاب کے کفالت پروگرام سے معروف صنعتکار اور تاجر اسحاق ڈار کی اہلیہ کو پندرہ سو روپے کا امدادی منی آڈر جاری کیا گیا ہے۔

اس منی آڈر کی نقل مسلم لیگ نون نے اپنے اس ایک سو سترہ صفحات پر مشتمل حقائق نامہ میں شامل کی ہے جسے میڈیا میں جاری کرنے کے علاوہ مسلم لیگ نون نے الیکشن کمشن کو بھی بھجوایا ہے۔

اسحاق ڈار مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف کے رشتہ دار اور مقبول کاروباری شخصیت ہیں۔انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران منی آڈر کی نقل دکھائی جس پر لکھا تھا۔ ’خوشی پر سب کا حق ہے۔‘

اسحاق ڈار کی بیوی تبسم اسحاق ڈار دراصل گلبرگ تھری کے اس علاقے میں رہتی ہیں جو سابق وزیر اعلیٰ پرویز الہی کے صاحبزادے مونس الہی کا حلقہ انتخاب ہے۔ پندرہ سو روپے فی گھرانے کے حساب سے علاقے کے متعدد لوگوں کو اسی قسم کے ’منی آڈر‘ ملے ہیں۔

مسلم لیگ نون کے رہنما اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ یہ ایک ثبوت ہے کہ سابق حکمران جماعت کے امیدوار ووٹ خریدنے کے لیے اپنی انتخابی مہم میں قومی خزانے کا استعمال کر رہے ہیں۔

منی آڈر پر لکھا ہے: ’وزیر اعلی کا پیغام: میں دعاگو ہوں کہ یہ رقم آپ کے رزق میں برکت کا سبب بنے۔ پرویز الہی۔‘ مسلم لیگ نون نے یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ جب پرویز الہی وزیر اعلیٰ نہیں رہے تو ان کے نام سے یہ چیک کیوں جاری کیے جا رہے ہیں؟

مسلم لیگ نون کےحقائق نامہ ’پری پول رگنگ‘ کے صفحہ ترانوے پر ایک ایسے پمفلٹ کی تصویر ہے جو مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کے ایک کروڑ کی تعداد میں چھاپنے کے بعد گھرگھر پہنچائے گئے ہیں۔ ان پر بھی پرویز الہیٰ کی تصویر، اور پڑھے لکھے پنجاب کے منصوبے کی تعریفیں لکھی ہیں۔ حکومت پنجاب کا لوگو بھی موجود ہے۔

پنجاب کی نگران حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ پمفلٹ پرویز الہیٰ کے دور میں چھاپے گئے لیکن مسلم لیگ نون کے رہنماء اس کو نہیں مانتے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ نگران دورمیں تقسیم کیے گئے۔

اسی حقائق نامے میں وہ تصویر بھی شامل ہے جس میں ایک پولیس اہلکار کو مسلم لیگ قاف کے انتخابی نشان کے پوسٹر لگاتے دکھایا گیا ہے۔یہ تصویر اس سے پہلے پاکستان کے قومی اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔

دھاندلی کے حقائق نامے میں مختلف ایف آئی آر یعنی تھانے میں درج ان ابتدائی رپورٹوں کی نقول ہیں جن میں مسلم لیگ نون کے امیدواروں کو نامزد کیا گیا ہے اور کئی ایسی درخواستیں ہیں جو مسلم لیگ قاف کے امیدواروں کے تھانوں اور دیگر محکموں میں دی گئیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

سابق حکمران چودھری برادران کے آبائی شہر گجرات سے مسلم لیگ نون کے امیدوار نے ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسر کو ایک تحریری درخواست میں کہا ہے کہ پولیس نے ان کے حقیقی بھائی اور حمایتیوں کی گاڑیوں کے انجنوں میں ریت ڈال کر انہیں ناکارہ بنا دیا۔

مسلم لیگ نون کے رہنماؤں نے جعلی پولنگ سٹیشنوں کی شکایت بھی کی ہے حقائق نامہ میں فیصل آباد سے ایک امیدوار عابد شیر علی کی درخواست بھی شامل ہے جس میں انہوں نے خورشید پبلک سکول سمن آباد ایم میں بنائے گئے ایک پولنگ سٹیشن کے بارے میں کہا ہے کہ اس نام کے کسی سکول کا کوئی وجود نہیں ہے۔

مسلم لیگ نون کے علاوہ پیپلز پارٹی نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ بلدیاتی اداروں کو معطل کیا جائے۔مسلم لیگ نون نے ان بینر اور پوسٹروں کی تصویریں جاری کی ہیں جن میں ناظمین کی جانب سے مسلم لیگ قاف کے امیدواروں کے حق میں نعرے لکھے ہیں۔ایک تصویر اٹک کی ہے جس میں ضلع ناظم ،سابق وزیر اعلی پنجاب اور مسلم لیگ قاف کے امیدوار کی تصویریں ساتھ ساتھ لگی ہیں۔

اسلام آباد سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار نے کہا ہے کہ مقامی یونین کونسل کے ناظم نے پانی بلوں کے ساتھ ان کے مخالفانہ پمفلٹ بھی لوگوں کے گھروں میں پھینکوا دئیے ہیں۔

مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک کروڑ سے زائد ووٹ ایسے بنائے گئے ہیں جن کی اصلی ہونے پر شک ہے۔اس کے علاوہ ماضی کے تین لاکھ کے مقابلے میں اس بار ریکارڈ اٹھارہ لاکھ پوسٹل بیلٹ پیپر جاری کیے گئے ہیں جن کے بارے میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو کچھ نہیں بتایا گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ سرکاری ملازمین کو کہا گیا کہ وہ مہر لگائے بغیر صرف دستخط کرکے پوسٹل بیلٹ واپس کریں۔اس حقائق نامہ میں کوئی سولہ سو چون دھاندلی کی شکایات کا ذکر ہے جن میں سرکاری افسروں بعد از ریٹائرمنٹ نئی تعیناتی بھی شامل ہے۔مسلم لیگ نون کا کہنا ہے کہ یہ سرکاری افسر مسلم لیگ قاف کو دھاندلی کے ذریعے جتوانے کے لیے مامور کیے گئے ہیں۔

اس پریس کانفرنس سے کچھ ہفتے پہلے ہونے والی ایک دوسری پریس کانفرنس میں مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے الزام عائد کیاتھا کہ فوج کے جی ایچ کیو میں دھاندلی کا منصوبہ ترتیب دیا جا رہا ہے۔

اب حالیہ پریس کانفرنس میں مسلم لیگ نون نے دھاندلی کے الزامات پر مبنی پوری ایک کتاب جاری کردی ہے دھاندلی کے بارہ طریقوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے اور ثبوت فراہم کرنے کی بھی کوشش کی ہے البتہ الزامات کی اس بھر مار میں فوج پر دھاندلی میں ملوث ہونے کا ایک الزام بھی شامل نہیں ہے۔

اسی بارے میں
’ISI کی مداخلت بند کرائیں‘
04 January, 2008 | پاکستان
بینظیر کا الیکشن کمشن کو خط
26 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد