BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی پی کا بڑھتا جوش

پی پی پی کے حمای
پی پی پی کے حمایوں میں ایک نیا جوش ہے۔
دسمبر دو ہزار سات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پورے ملک میں فساد پھوٹ پڑے۔ تین دن تک پورا ملک ان فسادات کی زد میں رہا۔ سب سے زیادہ متاثر بینظیر بھٹو کا آبائی صوبہ سندھ ہوا۔

اب غم اور غصے کی یہ لہر حکومتی جماعت مسلم لیگ ق کو آنے والے انتخابات میں ہرانے کی خواہش میں تبدیل ہو تی نظر آ رہی ہے۔ بینظیر بھٹو کے حامی مسلم لیگ ق کو ان کی موت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

حال ہی میں سندھ کے کچھ شمالی اضلاع کا سفر کیا تو اس بات کا احساس ہوا کہ پی پی پی کے علاوہ تمام دیگر سیاسی جماعتوں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں۔

دو دنوں میں جن چار اضلاع سے میں گزرا ان میں مجھے مسلم لیگ ق کے امیدواروں کا ایک بھی انتخابی دفتر نظر نہیں آیا۔ ہاں جن علاقوں میں طاقتور
زمیندار پی پی پی کے مخالف ہیں وہاں کئی بڑے بڑے بل بورڈ دیکھنے میں آئے۔

مگر پی پی پی کے جھنڈے ہر طرف تھے اور ہر دوسرا آدمی پی پی پی کا حامی معلوم ہوتا تھا۔ صاحب خان اور محمد سلیم ایسے ہی دو نوجوان ہیں۔ دونوں مورو گاؤں سے ہیں اور دونوں کسان ہیں۔ بینظیر کے چہلم کے لیے ایک سو ستر کلو میٹر کا فیصلہ طے کر کے گھڑی خدا بخش پہنچے تھے۔

سخت سردی اور برفیلی ہواؤں کے درمیان اپنی سائیکلوں پر واپسی کی تیاری کر رہے تھے۔ صاحب خان نے کہا، ’بینظیر نے ہمارے لیے جان دی، ہم اپنی جان اس کے لیے دینے کو تیار ہیں۔‘

پی پی پی کے جھنڈے ہر طرف نظر آئے

دیکھنا یہ ہے کہ اس طرح کے جذبات ووٹوں میں کتنی آسانی سے تبدیل ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ووٹ ڈالنے کی شرح تیس سے چالیس فیصد تک ہی محدود رہا کرتی ہے۔ انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی ان میں عام پاکستانیوں کی عدم دلچسپی کی باتیں ہونے لگیں۔

اس کی وجوہات میں صدر مشرف کی طرف سے قائم عبوری حکومت میں مسلم لیگ ق کے حامیوں کی بڑی تعداد کا موجود ہونا، خود مختار الیکشن کمیشن کے مطالبات کو رد کرنا، حزب اختلاف کی طرف سے ضلعی حکومتوں کو برطرف کرنے کے مطالبے سے انکار شامل ہیں۔ زیادہ تر ضلعی حکومتیں مسلم لیگ ق کے حامیوں کے زیر کنٹرول ہیں جس کی وجہ سے اسے کئی فائدے ہیں۔

انتخابات کے مقامی نگراں گروپس کے مطابق کئی دفعہ مسلم لیگ ق کے امیدواروں کو عبوری اور ضلعی حکومت کی طرف سے مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کے پاس قوائد نافذ کرنے کے اختیارات نہیں ہیں۔

کچھ اطلاعات کے مطابق بینظیر بھٹو کے قتل سے پہلے خفیہ ادارے مسلم لیگ ق کے حریفوں پر انتخابات سے الگ ہوجانے کے لیے دباؤ بھی ڈال رہے تھے۔ تاہم بینظیر کے قتل کے بعد ملک بھر میں ہونے والے رد عمل اور حکومت پر بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے صورت حال میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔

الیکشن میں ووٹروں کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہوا ہے

فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے فوجی افسران کو سیاست میں دخل نہ دینے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ الیکشن افسران پر بھی، جن میں سے زیادہ تر مسلم لیگ ق کے آدمی مانے جاتے ہیں، انتخابات کو شفاف طریقہ سے سرانجام دینے کے لیے دباؤ ہے۔

پچھلے کچھ عرصے میں الیکشن میں ووٹروں کی دلچسپی میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سے کسی ایک جماعت کی واضح فتح کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہےکہ حال ہی میں پنجاب میں الیکشن ریلیوں پر ہونے والے حملوں کا ایک مقصد ووٹروں کو ڈرانا بھی ہو سکتا ہے۔

کراچی میں ایک ہفتے میں دو پشتون سٹوڈنٹ لیڈروں کا قتل پشتونوں اور اردو بولنے والوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔

پنجاب الیکشنملتان کا الیکشن
’ووٹر نہ جانے کس پر مہر لگائیں گے‘
محمد لطیف انصر سیال المعروف پروفیسر لجپال سدا بہار امیدوار
ہرانتخاب میں حصہ لینے والے پروفیسر لجپال
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد