BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: 11 February, 2008 - Published 08:47 GMT
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سدا بہار سیاستدان یا سدا بہار امیدوار

محمد لطیف انصر سیال المعروف پروفیسر لجپال
پروفیسر لجپال چھ اکتوبر کے صدارتی انتخاب میں بھی حصہ لے چکے ہیں
وہ خود کو کہتے تو سدا بہار سیاستدان ہیں لیکن دراصل ہیں وہ سدا بہار انتخابی امیدوار۔ گزشتہ اکیس برسوں میں وہ ضلعی ناظم سے لے کر صدر پاکستان تک کے عہدوں کے لیے بیسیوں انتخابی معرکوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ بلکہ ایک سال میں تو وہ ریکارڈ نو انتخابات تک میں قسمت آزما چکے ہیں۔

دریافت کیا کہ آیا سال میں اتنے انتخابات ہوتے بھی ہیں تو محمد لطیف انصر سیال المعروف پروفیسر لجپال نے بتایا کہ جہاں بھی کوئی منتخب رکن انتقال کرتا ہے یا مستعفی ہوتا ہے تو وہ اس کے نتیجے میں ہونے والے ضمنی انتخاب کو بھی نہیں چھوڑتے اور میدان میں کود پڑتے ہیں۔

اکاون سالہ پروفیسر لجپال چھ اکتوبر کے صدارتی انتخاب میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور اب اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے بعد ان کا ہدف بےنظیر بھٹو کے لاڑکانہ حلقے سے ضمنی انتخاب میں حصہ لینا ہے۔

ان تمام انتخابات میں ان کے لیے نتیجہ ایک ہی رہا ہے یعنی شکست۔ اکاون سالہ پروفیسر لجپال کہتے ہیں کہ ان کا انتخابات میں حصہ لینے کا واحد مقصد لوگوں کو آگہی دینا ہے کہ سیاستدان شعبدہ باز ہیں اور قومی دولت ہڑپ کرنا ان کا واحد مقصد ہے۔ ’وہ اس طریقے سے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں اور رقوم بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں۔ ان کو رد کرنا چاہیے۔‘

بنیادی طور پر ایک استاد ہیں، شاعری بھی کرتے ہیں اور سیاست تو ہے ہی ان کا ہدف۔ ان انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کی ایک (این اے 151) اور پنجاب اسمبلی کی تین نشستوں کے لیے میدان میں ہیں۔

وہ تھانوں کے چکر لگا کر اور گیسٹ ہاؤسز پر چھاپے مار کر جرائم پیشہ عناصر پر نظر رکھتے ہیں

پہلی نظر میں پستول سے مسلح وہ کسی سکیورٹی کمپنی کے ملازم دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ ان کا انتخابی نشان سکوٹر ہے لیکن اپنے حلقے میں سائیکل پر سوار اپنے سابق طلباء اور مہربانوں کے پیسے سے وہ اپنی انتخابی مہم چلاتے رہتے ہیں۔ ’میں جہاں بھی جاتا ہو کوئی شاگرد مل جاتا ہے اور میرا خرچہ برداشت کرلیتا ہے۔ میں نے بھی تو انہیں مفت پڑھایا تھا۔‘

بات چیت میں انہوں نے اقرار کیا کہ مقامی انتظامیہ نے انہیں مہم چلانے کے لیے موٹر سائیکل فراہم کی تھی لیکن انہوں نے واپس کر دی۔

پروفیسر لجپال اپنی ذات میں انجمن ہیں۔ حکومت کی جانب سے سکیورٹی مہیا نہ کرنے پر اپنی سکیورٹی بھی خود کرتے ہیں، مہم بھی خود چلاتے ہیں اور اخبارات کو اپنے بیانات بھی اپنی لکھی ہوئی پریس ریلیزوں کے ذریعے جاری کرتے ہیں۔ اخبارات میں کام کرنے والے شاگرد آخر کس کام کے!

شادی شدہ ہیں لیکن کوئی اولاد نہیں۔ شاید اسی لیے سارا وقت گھومنے پھرنے میں صرف کرتے ہیں۔ خود کو رضا کار ’کرائم فائٹر‘ بھی کہتے ہیں اور راتوں کو تھانوں کے چکر لگا کر اور گیسٹ ہاؤسز پر چھاپے مار کر جرائم پیشہ عناصر پر نظر رکھتے ہیں۔ ’جرائم سے یا جرائم پیشہ لوگوں سے میرا کوئی راضی نامہ نہیں۔‘

جب پوچھا کہ منتخب ہونے کی صورت میں ان کا ایجنڈا کیا ہوگا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ حضرت عمر فاروق کا نظام رائج کرنے کی کوشش کریں گے۔ ’جب تک ہر مجرم کو سزا نہیں دی جاتی اس وقت تک پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔‘

ان کا دعوی ہے کہ وہ محب وطن اور مذہب سے محبت کرنے والوں میں کافی مقبول ہیں۔ ’جرائم پیشہ لوگ میرے خلاف غلط پروپیگنڈا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پروفیسر لجپال ایجنسیوں کے آدمی ہیں۔ ان کا یہ الزام بھی غلط ثابت ہوگیا جب میں نے چھ اکتوبر کو صدارتی انتخاب میں حصہ لیا۔‘

ان کے انتخابی اشتہار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی کوئی زیادہ کامیابی کے متلاشی نہیں

صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی وجہ انہوں نے صدر پرویز مشرف سے اپنی توقعات بتائیں۔ ’جب وہ آئے تو ہمیں کافی امیدیں تھیں ان سے۔ ان کی کابینہ میں دوغلہ پن تھا۔ مشرف صاحب تو فوجی جوان تھے انہیں سیاست کے پیچ و خم کہاں آتے تھے۔ وہ اب پھنسے ہوئے ہیں۔‘

ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو وہ رات ایک بجے ہوٹل پہنچے۔ اس وقت میں آدھی نیند مکمل کر چکا تھا۔ اس رات تو غصے میں نہیں ملا لیکن دوسرے روز اتنی رات گئے آنے کی وجہ دریافت کی تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی حفاظت کا مسئلہ درپیش ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں حکومت کے ساتھ مل کر جرائم کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے خود کش حملے کی دھمکی بھی ملی ہوئی ہے۔ ’حکومت نے مجھے سکیورٹی بھی فراہم نہیں کی تو مجھے اپنا خیال خود رکھنا پڑتا ہے۔‘

ان کی باتوں اور حلیے سے واضع ہے کہ حلقے کے لوگ انہیں کیوں سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ انہیں اس کی کوئی خاص شکایت بھی نہیں۔ کہتے ہیں اگر دھاندلی نہ ہو تو وہ کامیاب ہو جائیں۔ ان کے ایک دستی انتخابی اشتہار پر درج ایک شعر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی کوئی زیادہ کامیابی کے متلاشی نہیں:

منزل مجھے ملے نہ ملے اس کا غم نہیں
منزل کی جستجو میں میرا کارواں تو ہے

انتخاباتغیر یقینی صورتحال
کیا موجودہ حکومت انتخابات کرا پائےگی؟
الیکشن باکسانتخاب پر خدشات
اٹھارہ فروری انتخابات، خدشات برقرار
امیدواروں کی مشکل
دوبارہ سے انتخابی مہم چلانے میں مشکلات
نواز شریف اور بینظیر بھٹوبائیکاٹ، نو بائیکاٹ
انتخابات: اپوزیشن میں اتفاق رائے کا فقدان
پیپلز پارٹی کی ریلیصرف تیس
سندھ میں تیس خواتین انتخابات لڑ رہی ہیں
مسلم لیگانتخابی میدان سے
قومی انتخابات کے ’بلدیاتی‘ امیدوار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد