پنجاب میں انتخابی کشیدگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک کے دیگر صوبوں کے برعکس پنجاب کی یہ روایت رہی ہے کہ یہاں انتخابی کدورتیں کشت و خون کا باعث بن جاتی ہیں۔ وزارت داخلہ نے غیر ملکی مبصرین اور صحافیوں کو سکیورٹی کےحوالے سے جن علاقوں کی نشاندہی کی ہے ان میں بھی پنجاب کا کوئی شہر یا دیہات شامل نہیں ہے۔البتہ انتخابی معرکہ آرائی کی وجہ سے پنجاب میں چھوٹے بڑے لڑائی جھگڑے اور ان کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف مقدمات درج کرانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ پنجاب کی حد تک پرتشدد واقعات کا سب سے بڑا خطرہ گجرات میں پایا جاتا ہے جہاں سے مسلم لیگ قاف کے چودھری برادران حصہ لے رہے ہیں۔ پیر کی رات گجرات کے ایک نواحی گاؤں میں چودھریوں کے مخالف پیپلز پارٹی کے امیدوار چودھری احمد مختار اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ چودھری احمد مختار سے ٹیلی فون پر پوچھا گیا کہ کیا الیکشن کے دن خوں ریزی کا کوئی خطرہ ہے تو انہوں نے کہا کہ خطرہ بالکل موجود ہے اور وہ الیکشن کمیشن کو خطوط لکھ چکے ہیں کہ وہ امن وامان کے لیے اقدامات کرے۔ چودھری احمد مختار کاکہنا تھا کہ چونکہ چودھریوں کو اپنی ہار نظر آرہی ہے اس لیے ان سے کسی بھی ہتھکنڈے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹھ دس لاشیں گرنے سے بہتر ہے کہ امن وامان کی صورتحال بہتر بنا لی جائے۔ پنجاب مختلف ذات برادریوں میں بٹا ہواہے اور بعض دیہی علاقوں میں برادریوں کی تقسیم انتخابی مخالفت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اوکاڑہ کے جاٹ اور آرائیں کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے خلاف انتخابی طور پر صف آراء ہیں۔ جہلم میں جاٹ بمقابلہ راجپوت ہیں اسی طرح چکوال کےجس حلقے سے چودھری پرویز الٰہی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں وہاں ان کے مخالف دونوں امیدوار ٹمن برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی حوالے سے علاقے میں کشیدگی بھی پائی جاتی ہے۔ لاہور کے نواحی خاص طور پر سرحدی جبکہ شیخوپورہ کے مختلف علاقے جرائم پیشہ افراد کی بہتات اور دیہی خاندانی تنازعات کی وجہ سے پرتشدد واقعات کا گڑھ بن سکتےہیں۔ فیصل آباد میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور مسلم لیگ قاف کے درمیان شدید انتخابی رنجش، تشدد میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے جبکہ جھنگ، شورکوٹ، کبیر والہ اور خانیوال ایسے علاقے ہیں جہاں فرقہ ورایت کا کوئی چھوٹا واقعہ بڑے علاقے کو فرقہ ورانہ فسادات کی لپیٹ میں لے سکتاہے۔ پنجاب کے امن وامان پر نظر رکھنے والےمبصرین کا کہنا ہے کہ اس وقت سکیورٹی کا سب سے زیادہ خدشہ فیصل آباد میں ہو سکتا ہے جہاں جمعرات کو آصف زرداری ایک جسلہ عام سے خطاب کرنے والے ہیں۔ |
اسی بارے میں ملک میں الیکشن، ہمیں اس سے کیا06 February, 2008 | پاکستان ’چہلم کے بعد بھرپور مہم چلائیں‘06 February, 2008 | پاکستان ’شفاف انتخابات الیکشن کمشن کی ذمہ داری‘07 February, 2008 | پاکستان عدلیہ کی بحالی: نواز لیگ کا حلف07 February, 2008 | پاکستان ’جنوبی وزیرستان: انتخاب ناممکن ‘09 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||