BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 February, 2008, 02:40 GMT 07:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدلیہ کی بحالی: نواز لیگ کا حلف

اجلاس میں اعتزاز احسن کی اہلیہ بشریٰ اعتزاز نے بھی شرکت کی
پاکستان مسلم لیگ نون نے لاہور کے ایک سیاسی اجتماع میں اپنے قومی اورصوبائی اسمبلی کے امیدواروں سے حلف لیا ہے کہ وہ منتخب ہونے کے بعد عدلیہ کی دونومبر سے پہلی والی پوزیشن پر بحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

ماڈل ٹاؤن کے پنڈال میں مسلم لیگ نون کے قومی اور صوبائی اسمبلی کے تمام امیدوار اپنی نشستیں چھوڑ کر سٹیج کے سامنے جمع ہوگئے جہاں ریٹائرڈ جسٹس سعید الزمان صدیقی نے ان سے حلف لیا۔

امیدواروں نے یہ حلف بھی دیا کہ وہ انیسں سو تہتر کے آئین کی بحالی اور سیاست سے فوج کے کردار کے ہمیشہ کے لیے خاتمہ پر کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

مسلم لیگ نون کے اس اجتماع میں تین ہزار کے قریب افراد نے شرکت کی جن میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانےوالے بعض جج صاحبان،سابق فوجی افسر،وکلاءاورسول سوسائٹی کے عہدیدار بھی شامل ہیں۔

میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہاکہ اگر عدلیہ آزاد نہ ہو تو معاشرہ یتیم اور لاوارث ہوکر رہ جاتا ہے۔

انہوں نے تین نومبر کو پاکستان کی سیاست کا بھیانک اور افسوسناک دن قرار دیا جب ملک میں ایمرجنسی نافد کی گئی اور اعلی عدلیہ کے ججوں کو ان کے گھروں کو بھیج دیا گیا۔نوازشریف نے کہا کہ ’پرویز مشرف نے صدر ہونے کے باوجود آئین کے آرٹیکل دو سوبتیس کے تحت ایمرجنسی اس لیے نہیں لگائی تھی کہ اس صورت میں ججوں کو فارغ نہیں کیاجاسکتا تھا۔‘

انہو ں نے کہا کہ اٹھارہ فروری ایک ریفرنڈیم کا دن ہے ا ورقوم نے فیصلہ کرنا ہے کہ صدرپرویز مشرف کا تین نومبر کا اقدام درست تھا یا نہیں۔

نواز شریف نے انتخابات میں شرکت کرنے والی دیگر دو سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی پر زور دیا کہ اس کاز کے لیے وہ بھی یکسو ہوجائیں۔

اجلاس میں پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی کے طریقوں پر بھی اظہار خیال کیا گیا۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن کی اہلیہ بشری اعتزاز نے کہا کہ ججوں کو چیف آف آرمی سٹاف کے حکم پر ہٹایا گیا تھا اور ان سے بڑے کسی بھی افسر مثال کے طور پر سیکرٹری ڈیفنس کے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے انہیں واپس بھجوایا جاسکتا ہے۔

سابق صدارتی امیدوار ریٹائرڈ جسٹس وجیہ الدین نے کہا قومی اسمبلی کے قیام کے بعد محض سادہ اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی جائے جس میں تین نومبر اور اس کے بعد کے تمام اقدامات کو ناجائز قرار دیاجائے تو ان کے بقول یہ تمام ججوں کی واپسی کے لیے کافی ہوگا۔

جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی نے کہا کہ سوال یہ نہیں کہ بعض ججوں نے ماضی نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا سوال یہ ہے کہ ججوں کو ہٹائے جانے کا تین نومبر کا طریقہ کار درست ہے یا نہیں

مسلم لیگ نون کے اس اجلاس میں امیدوراوں میں کتابچے تقسیم کیے گئے جس میں انہیں ممکنہ دھاندلی سے بچنے کے طریقے بتائے گئے۔

مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف اور دیگر قائدین نے اپنے خطاب میں امیدواروں کو بتایا کہ دھاندلی روکے بغیر انہیں ووٹ کا طاقت نہیں مل سکے گی۔

معاہدے میں کیا ہے؟
جلاوطنی کے معاہدے کے متن کی تلخیص
جلاوطنی کے معاہدے کا عکستصاویر میں
نواز شریف اور حکومت کے معاہدے کا عکس
شہباز شریفقربانیوں کا سودا
کیا ڈیل 12 اکتوبر سے پہلے کا آئین بحال کریگی
اسی بارے میں
واپسی کی سماعت 16 اگست کو
09 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد