BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 February, 2008, 11:05 GMT 16:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جنوبی وزیرستان: انتخاب ناممکن ‘

جنوبی وزیرستان میں پاکستانی فوج
تمام راستے یا تو فوجیوں نے بند کردیے ہیں یا پھر برفباری نے: ایک مقامی نوجوان
جنوبی وزیرستان کی پولیٹیکل انتظامیہ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے کہا ہے کہ فوجی کارروائی کے بعد علاقے سے بڑے پیمانے پر ہونے والی نقل مکانی کی وجہ سےاٹھارہ فروری کو انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔

جنوبی وزیرستان کے اسسٹنٹ پولیٹیکل آفیسر خائستہ رحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر بتا دیا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے حلقہ این اے اکتالیس اور بیالیس میں اٹھارہ فروری کو انتخابات کرانا ناممکن ہے۔

لوگوں کی پریشانی
 ہم پر اوپر سے بمباری اور نیچے سے توپ کے گولے برس رہے ہیں ان حالات میں کون ووٹ ڈالنے جائےگا۔ تشدد کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ذہنی مریض بن چکے ہیں لہذا وہ کیسے ووٹ کا صحیح استعمال کرسکتے ہیں
نور ولی

انہوں نے نقل مکانی کرنے والوں کے اعداد شمار نہیں بتائے البتہ یہ ضرور کہا کہ زیادہ تر لوگ علاقہ چھوڑ کر دوسری شہروں میں منتقل ہوگئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کا حلقہ این اے بیالیس چار تحصیلوں لدھا، سرہ روغہ، سروکئی اور مکین پر مشتمل ہے جہاں پر خالصتاً محسود قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔اس حلقے میں رائے دہندگان کی تعداد ایک لاکھ انتیس ہزار سے زائد ہے۔مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ علاقے سے ایک لاکھ سے زائد افراد نے نقل مکانی کی ہے۔

این اے بیالیس سے چار امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جن میں سے تین کا تعلق جمعت علماء اسلام(ف) سے بتایا جاتا ہے۔

امیدوارقومی اسمبلی مولوی حسام الدین

قومی اسمبلی کے امیدوار مولانا حسام الدین نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نقل مکانی کی وجہ سے محض دو فیصد لوگ جنوبی وزیرستان کے محسود علاقہ میں گئے ہیں لہذا حکومت کو انتخابات ملتوی کرنا چاہیے۔

ان کے بقول ’اگر لوگوں نے ہمیں ووٹ دینا ہے تو وہ تو علاقہ چھوڑ چکے ہیں اگر فرشتوں نے دینا ہے پھر شاید ممکن ہو۔اگر حکومت ان حالات میں خوامخواء انتخابات کرانا چاہتی ہے تو پھر ہمیں اپنے ہی وطن میں مہاجر سمجھ کر افغانستان کی طرز پر ٹانک اور دیگر علاقوں میں پولنگ سٹیشن بنائیں‘۔

جنوبی وزیرستان سے قومی اسمبلی کے سابق رکن اور امیدوار مولوی معراج الدین کا بھی کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں انتخابات کرانا ممکن نہیں ہے تاہم انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ انتخابات کو ملتوی کرانے کے بعد قبائلی علاقہ میں سیاسی عمل کو برقرار رکھنے کے لیے جتنی جلدی ممکن ہو اس کا دوبارہ انعقاد یقینی بنایا جائے۔

امیدوار قومی اسمبلی مولوی معراج الدین
ان کے مطابق’ قبائلی علاقوں میں سیاسی عمل کے لیے انتخابات اشد ضروری ہیں۔جب میں قومی اسمبلی کا رکن تھا تو ہم نے جرگوں کے ذریعے طالبان اور حکومت کے درمیان مفاہمت کرائی اور اس طرح ہم نے تین سال تک جنگ کو نہ صرف محدود رکھا بلکہ اسے پیچھے دھکیلتے رہے‘۔

نقل مکانی کرنے والے زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہونے والے انتخابات سے ان کے مسائل حل نہیں ہوئے بلکہ آخری فیصلہ فوج اور طالبان نے ہی کرنا ہوتا ہے۔ان کے بقول ان کا واپس جانے کا کوئی ارداہ نہیں ہے۔

نورولی کا کہنا تھا کہ ’ہم پر اوپر سے بمباری اور نیچے سے توپ کے گولے برس رہے ہیں ان حالات میں کون ووٹ ڈالنے جائےگا۔ تشدد کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ذہنی مریض بن چکے ہیں لہذا وہ کیسے ووٹ کا صحیح استعمال کرسکتے ہیں‘۔

ایک اور نوجوان یوسف نے بتایا کہ ’ہم انتخابات کے لیے واپس کیسے لوٹ سکتے ہیں، تمام راستے یا تو فوجیوں نے بند کردیئے ہیں یا پھر برفباری نے۔جنگ کے جھنجھٹ میں پھنسے لوگوں میں سے زیادہ تر کو یہ تک نہیں معلوم کہ ان کے امیدوار کون ہیں‘۔

اسی بارے میں
خود کش حملےمیں پانچ ہلاک
01 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد