BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 January, 2008, 10:00 GMT 15:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع

وزیرستان، فوج (فائل فوٹو)
سینکڑوں فوجی محسود علاقے میں آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
پاکستان فوج نے جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے خلاف ایف آر جنڈولہ اور چگ ملائی کے محسود علاقے سپینکئی راغزائی میں آپریشن شروع کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مقامی طالبان اور فوج ایک دوسرے پر بھر پور حملے کر رہے ہیں جبکہ مکین اور رزمک کے علاقے میں بھی جھڑپیں جاری ہیں۔

پاکستان فوج کے ترجمان نے کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ جنڈولہ کے قریب سپنکئی راغزائی اور رزمک کے قریب جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین اور تیارزہ میں کارروائی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک جنگجوؤں کے تمام ٹھکانوں کا خاتمہ نہ ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ محسود علاقے میں فوجیوں کی نفری میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

کارروائی جاری رہے گی
 کارروائی اس وقت تک جاری رہےگی جب تک جنگجوؤں کے تمام ٹھکانوں کا خاتمہ نہ ہوجائے۔محسود علاقے میں فوجیوں کی نفری میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
فوجی ترجمان

مقامی انتظامیہ کے مطابق بدھ کی صبح پاکستان کی فوج نے مقامی طالبان کے خلاف محسود علاقے سپینکئی راغزائی میں کارروائی کرنے کے لیے ایف آر جنڈولہ اور چگ ملائی کے مقام سے پیش قدمی شروع کی۔

حکام کے مطابق اس مہم میں بلوچستان رجمنٹ کے چھ سو جوان، بھاری توپخانہ اور تین ٹینک شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جنڈولہ اور سپینکئی راغزائی کے درمیانی علاقے میں مقامی طالبان نے فوج پر راکٹوں اور خود کار ہتھیاروں سے حملے کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سینکڑوں فوجی پیدل پہاڑی سلسلوں میں طالبان کے ٹھکانوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق جنڈولہ، وانا، رزمک اور منزئی سے علاقہ محسود پر گولہ باری کا سلسلہ بھی جاری ہے لیکن تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ اس علاقے سے ملانے والے تمام راستے بدستور بند ہیں۔

ادھر شمالی وزیرستان کے سب ڈویژن رزمک اور جنوبی وزیرستان سے متصل سکاؤٹس قلعہ رزمک پر بھی بدھ کی صبح راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔جوابی کارراوئی میں چار مقامی طالبان بھی مارے گئے ہیں۔

وانا سے مقامی طالبان کے سربراہ ملا نذیر نے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت محسود علاقے میں شدید کشیدگی ہے۔ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ محسود علاقے میں کارروائی سے متاثرہ خاندان وانا آ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ محسود قبائل کے وانا میں آنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

ملا نذیر کی رعایت
 محسود علاقے میں کارروائی سے متاثرہ خاندان وانا آ سکتے ہیں۔محسود قبائل کے وانا میں آنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
ملا نذیر

ملا نذیر کے اس اعلان سے تین ہفتے پہلے جب ان کی امن کمیٹی کے دفاتر پر حملے ہوئے تھے تو محسود قبائل کو وانا سے نکال دیا گیا تھا۔ ملا نذیر کے دفاتر پر حملے میں نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ادھر شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شمالی وزیرستان میں بیت اللہ گروپ کے خلاف توپخانے کا استعمال بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان کے حکومت سے امن مذاکرات جاری ہیں اور وہ کسی حد تک ایک نتیجے پر پہنچے ہیں۔انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے شمالی وزیرستان میں توپخانے کا استعمال بند نہ کیا تو شمالی وزیرستان میں دوبارہ حالات خراب کرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

اسی بارے میں
طالبان نڈر اور بے باک ہوگئے
16 January, 2008 | پاکستان
حکومت حامی سرداروں پر حملہ
09 November, 2007 | پاکستان
قافلے پر حملے، چھ فوجی ہلاک
12 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد