طالبان نڈر اور بے باک ہوگئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ محسود کی قیادت میں کام کرنے والے شدت پسند بظاہر کافی نڈر ہوگئے ہیں اور سراروغہ قلعہ پر قبضہ با آسانی ان کی اب تک کی بڑی کارروائیوں میں سے ایک قرار دی جاسکتی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس تیس اگست کو دو سو سے زائد فوجیوں کو جنوبی وزیرستان کے ہی لدھا علاقے میں بغیر گولی چلے اغواء کر لینا بلاشبہ ان کی پچھلے چار پانچ برسوں میں سب سے بڑی کارروائی تھی۔ منگل کی رات کو سراروغہ علاقے میں نیم فوجی ملیشیا کے قلعے پر دھاوا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مقامی طالبان زیادہ متحرک، نڈر اور بےباک ہوگئے ہیں۔ وہ زیادہ بڑی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور انہیں نہایت مہارت سے عملی جامہ بھی پہنا رہے ہیں۔ گیارہ سمتبر کے امریکی حملوں کے بعد قبائلی علاقوں میں جو شورش شروع ہوئی اس میں اب تک کی روایت یہی رہی ہے کہ عسکریت پسندوں نے کبھی کسی قلعے پر یا چوکی پر حملہ کیا، دو چار راکٹ داغے، گولیاں چلائیں اور اکثر رات کی تاریکی میں جہاں سے آئے تھے وہیں لوٹ گئے۔ یہ ان کے کسی بات پر غصے کے اظہار کا ایک معمول کا طریقہ تھا۔ یا اگر بات کچھ زیادہ بگڑی ہوئی ہوتی اور شکایت کچھ زیادہ ہوتی تو فوجی قافلے پر راکٹوں یا بارودی سرنگ کے ذریعے غصہ اتار لیا جاتا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عسکریت پسند صرف حملے کی غرض سے نہیں آئے تھے بلکہ قلعہ پر قبضہ کرنے اور اس میں موجود سکیورٹی اہلکاروں کو مارنے یا اغوا کرنے آئے تھے۔
بعض عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور کوئی دو چار نہیں بلکہ کئی سو مسلح شدت پسند تھے جنہوں نے رات آٹھ بجے سے حملے کا آغاز کیا اور نصف شب تک قبضہ کرتے ہوئے سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ وہاں سے مال غنیمت یعنی اسلحہ اور گولہ بارود بھی ساتھ لے گئے۔ اس تازہ حملے میں ایک اور بات قابل ذکر یہ ہے کہ جنوبی وزیرستان کا محسود علاقہ پہلے ہی بیت اللہ محسود کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ گزشتہ ستمبر اس علاقے کے دورے کے وقت محسود جنگجوؤں نے خود بتایا تھا کہ انہوں نے کئی مقامات پر سکیورٹی فورسز کو اپنے کیمپ خالی کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ایسے کئی مقامات کا جن پر اس وقت طالبان کا سفید پرچم لہرا رہا تھا دورہ بھی کروایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ جنگجوؤں کے بقول سکیورٹی فورسز کو نقل و حرکت کی بھی اجازت نہیں تھی۔ تمام اہم کچے پکے راستوں پر بیت اللہ محسود کے لمبے بالوں والے مسلح جنگجو پہرا دے رہے تھے۔ ایسے میں سراروغہ قلعہ چند ہی مقامات تھے جہاں پر فوج موجود تھی تاہم انہیں باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ اگرچہ اس قلعہ پر مقامی طالبان کا قبضہ مختصر عرصے کے لیے تھا اور کارروائی مکمل ہونے پر وہ وہاں سے چلے گئے لیکن ابھی واضع نہیں کہ سکیورٹی فورسز دوبارہ اس پر قبضہ بحال کرنے کی کوشش کرتی ہیں یا نہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتیں تو اس سے علاقے میں حکومتی رٹ کو ایک اور دھچکہ لگا سکتا ہے۔
سررواغہ وہ مقام ہے جہاں پر بیت اللہ محسود نے سات فروری دو ہزار پانچ کو حکومت کے ساتھ طویل تصادم کے بعد ایک امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ یہ قلعہ مختلف اونچی نیچی پہاڑیوں میں سے ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ تاہم اس علاقے کے چپے چپے سے واقف ان جنگجوؤں کے لیے اس پر حملہ کرنا اور قبضہ کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں۔ اس انتہائی کارروائی کی آخر ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس کی دو بڑی وجوہات دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک تو بیت اللہ محسود پر حکومت کی جانب سے پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام کے بعد سے محسود علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔ اس بابت قبائلیوں کے خلاف حکومت کی دبی دبی کارروائی جاری تھی۔ یہ کارروائی شاید اس کا ردعمل ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ تحریک طالبان پاکستان نے حکومت کو صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں جاری تلاشی آپریشن بند کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔ اس کے لیے اس نے حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت بھی دی تھی جس کے بعد مقامی طالبان نے سرکاری اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس تازہ کشیدگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنی رٹ قائم کرنے میں دن بدن نہ صرف ناکام ہو رہی ہے بلکہ عسکریت پسندوں کو امن معاہدوں کے ذریعے رام کرنے کی پالیسی کی بیل بھی کسی منڈھے نہیں چڑھ رہی۔ براہ راست مذاکرات کی عدم موجودگی کے خلاء میں شدت پسند نڈر نہیں ہوں گے تو کیا ہوگا۔ |
اسی بارے میں محسود میں جیٹ طیاروں کی بمباری03 January, 2008 | پاکستان وزیرستان: تعمیراتی کمپنی کےاہلکاراغواء14 January, 2008 | پاکستان شکئی: دو غیر ملکی جنگجو ہلاک13 January, 2008 | پاکستان وزیرستان فائربندی میں توسیع01 January, 2008 | پاکستان دیرسکاؤٹس فورس کے چاراہلکار اغواء01 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||