وزیرستان: سکاؤٹس قلعہ پرطالبان حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سینکڑوں مسلح مقامی طالبان نے سکاؤٹس قلعہ سراروغہ پر حملہ کیا ہے اور وہاں سے اسلحہ اور گولہ بارود لوٹ لیا ہے۔ فوجی حکام نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اس واقعے میں آٹھ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ جوابی کارروائی میں چالیس شدت پسند بھی مارے گئے ہیں جبکہ مقامی طالبان نے سولہ اہلکاروں کی ہلاکت اور بارہ کو یرغمال بنانے کا دعوٰی کیا ہے۔ اس سے قبل جنوبی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ کے ذرائع نے کہا تھا کہ طالبان حملے میں تیس سکاؤٹس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دس کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی اردو کے ہارون رشید سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سراروغہ قلعے پر حملہ کل رات آٹھ بجے شروع ہوا جس میں کم از کم آٹھ سپاہی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قلعے میں موجود سکیورٹی اہلکاروں میں سے پندرہ بحفاظت واپس لوٹ آئے ہیں البتہ باقی ماندہ پچیس اہلکاروں کی ابھی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں اب اس وقت قلعے کی صورتحال کے بارے میں معلوم نہیں کہ آیا شدت پسندوں کے قبضے میں ہے یا نہیں۔ ’ہمارا وہاں کوئی نہیں لہذا اس بارے میں میں آپ کو کچھ نہیں بتا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوابی فائرنگ سے چالیس شدت پسندوں کی بھی ہلاکت ہوئی ہے۔ ادھر پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے دعوٰی کیا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں سکاؤٹس قلعہ سراروغہ پر حملے میں سولہ سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ بارہ کو یرغمال بنالیا گیا ہے جبکہ کارروائی میں دو طالبان جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بدھ کی شام کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ منگل کی رات نو بجے قلعہ پر چڑھائی کی گئی اور ایک گھنٹے میں عمارت کو قبضہ میں لے گیا۔ ان کے بقول قلعہ سکیورٹی اہلکاروں سے خالی کرا لیا گیا اور اس پر بدستور عسکریت پسند قابض ہیں۔ اس سے قبل جنوبی وزیرستان کی مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا تھا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات ایک ہزار کے قریب مسلح مقامی طالبان نے جنوبی وزستان کے تحصیل سراروغہ میں سکاؤٹس قلعہ پر قریبی پہاڑی سلسلوں سے راکٹوں اور خود کار ہھتیاروں سے حملے شروع کیے اور سکاؤٹس فورس نے بھی جوابی کارروائی میں توپخانے اور مارٹر کا بھی استعمال کیا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چار گھنٹے کی لڑائی کے بعد سکاؤٹس فورس کی جانب سے فائرنگ بند ہوگئی اور مقامی طالبان قلعہ میں داخل ہوگئے اس کے بعد مقامی طالبان نے وہاں سے اسلحہ منتقل کرنا شروع کر دیا۔ بدھ کی صبح تک قلعہ کو اسلحہ سے خالی کر دیا گیا ہے۔طالبان زندہ بچ جانے والے اہلکارروں کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ بی بی سی اردو کے نمائندے ہارون رشید کے مطابق قلعے پر حملے کے بعد جنوبی وزیرستان سے ملحق ٹانک شہر میں قبائلی علاقے کی انتظامیہ نے محسود قبیلے کا ایک جرگہ طلب کیا ہے جس میں پولیٹکل ایجنٹ جنوبی وزیرستان فضل ربی نے تصدیق کی ہے کہ سراروغہ قلعے میں اڑتیس سکاوٹس اور پانچ سویلین حملے کے وقت موجود تھے۔ ان کے مطابق ان میں سے سات افراد بھاگ کر جنڈولہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں باقی چھتیس یا تو ہلاک یا پھر اغوا کر لیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے محسود جرگے سے ان افراد کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ جرگہ اب سابق رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین کی شربراہی میں اپنا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے مشورہ کر رہا ہے۔ |
اسی بارے میں محسود میں جیٹ طیاروں کی بمباری03 January, 2008 | پاکستان وزیرستان: تعمیراتی کمپنی کےاہلکاراغواء14 January, 2008 | پاکستان شکئی: دو غیر ملکی جنگجو ہلاک13 January, 2008 | پاکستان وزیرستان فائربندی میں توسیع01 January, 2008 | پاکستان دیرسکاؤٹس فورس کے چاراہلکار اغواء01 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||