سینتیس طالبان ہلاک: فوجی دعویٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں گزشتہ رات کی کارروائی میں طالبان نواز سینتیس شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے لیکن طالبان نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ طالبان کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لڑائی کے دوران ایک ’شدت پسند‘ مارا گیا جبکہ ایک زخمی ہوا جبکہ دس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے اور تیرہ کو یرغمال بنا لیا گیا۔ فوج کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی کیمپ پر حملے میں ایک فوجی اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہو گئے۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے سید شیعب حسن نے بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان میں کارروائی کا مقصد جنوبی وزیرستان میں مصروف فوج کی توجہ بٹانا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے سب ڈویژن لدھا میں مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی اور سکاؤٹس قلعہ لدھا پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں پانچ اہلکار ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں اور آٹھ اہلکار لاپتہ ہوگئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں کئی حملہ آور ہلاک اور زخمی ہوئے۔گن شپ ہیلی کاپٹر کی فائرنگ سے دو عام شہری بھی ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی اردو سروس کے نامہ نگار ہارون رشید کو بتایا کہ یہ حملہ پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک بجے کے قریب ہوا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جوابی کارروائی میں بڑی تعداد میں شدت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم اس بارے میں انہوں نے کوئی تعداد نہیں بتائی۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کے پشاور دفتر میں فون کر کے دعوی کیا کہ لدھا قلعہ پر حملے میں دس سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تیرہ کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔
طالبان کے ترجمان نے دو دن قبل چار سدہ میں خفیہ ادارے کے ایک اعلیٰ اہلکار کی ہلاکت کی بھی ذمہ داری قبول کی۔ چارسدہ پولیس کے مطابق پشاور میں تعینات آئی بی کے ڈائریکٹر سکیورٹی نثارعلی خان کو اتوار کی صبح سفید گاڑی میں سوار بعض مسلح افراد نے شب قدر کے علاقے میں گولیاں مارکر قتل کیا تھا۔ مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات ایک بجے کے قریب سب ڈویژن لدھا میں مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز کی ’اوپی‘ یا نگرانی کی چوکی اور سکاوٹس قلعہ لدھا پر راکٹوں اور خود کار ہتھیاروں سےحملہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں ’اوپی‘ چوکی میں سکیورٹی فورسز کے پانچ اہلکار ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں حکام کے مطابق اوپی چوکی سے دیر سکاوٹس فورس کے آٹھ اہلکار لاپتہ ہوگئے۔ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی شروع کی جس میں لدھا اور تحصیل مکین میں کئی مشکوک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجہ میں کئی حملہ آور ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ سکیورٹی فورسز نے جوابی کاروائی میں توپخانے بھی استعمال کیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق پیر کو گن شپ ہیلی کاپٹر کی فائرنگ سے تحصیل مکین میں دو عام شہری بھی ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں دو خواتین اور چار بچے شامل ہیں۔ تازہ ترین کارروائی سے علاقے میں ایک بار پھر سخت خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے وانا لدھا اور لدھا رزمک شاہراہ کو ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیاگیا ہے۔اور مکین بازار فائرنگ کے خوف سے غیر اعلانیہ طور پر بند ہوگیا اور لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع لکی مروت میں تاجہ زائی کےمقام پر ایک فوجی قافلے پر بارودی سرنگ کا حملہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ٹانک میں درے محسود قبائل کے جرگے نے الزام لگایا ہے کہ محسود میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی عام شہریوں کے لیے ہو رہی ہے۔ سابقہ ممبر قومی اسمبلی مولانا معراج الدین نے بی بی سی کوبتایا کہ حکومت نے علاقہ محسود سے ملنے والے تمام راستوں کو بند کردیا ہے جس کی وجہ سے عام شہری متاثر ہورہے ہیں۔ ان کے مطابق آٹے کی ایک بوری کی قیمت چار ہزار تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ درے محسود قبائل کا جرگہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک حکومت علاقے محسود سے ملنے والے تمام راستوں کو نہ کھولے اور گرفتار ہونے والے بے گناہ لوگوں کو رہا نہ کیا جائے۔ ان کے مطابق درے محسود قبائل کا ساٹھ رکنی جرگہ روزانہ ٹانک پولیٹکل کچہری میں جمع ہوگا۔ یاد رہےکہ جنوبی وزیرستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔ جنڈولہ؛ منزئی؛ وانا اور رزمک سے علاقہ محسود پر گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔ علاقے سے ملنے والے راستے بدستور بند ہیں۔ کئی دنوں سے پورے علاقے میں بجلی منقطع ہے۔ عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ علاقے میں سخت سردی؛ برف باری اور آٹے کی قلت نے لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ | اسی بارے میں بدترین جواب دیں گے: بیت اللہ21 January, 2008 | پاکستان تیس ’مشتبہ‘ افراد گرفتار19 January, 2008 | پاکستان ’نوے عسکریت پسند ہلاک‘18 January, 2008 | پاکستان سراروغہ:حکومتی کنٹرول بحال نہیں 17 January, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں طالبان کے آثار17 January, 2008 | پاکستان وزیرستان: سکاؤٹس قلعہ پرطالبان قابض16 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||