BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 January, 2008, 04:59 GMT 09:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: سکاؤٹس قلعہ پرطالبان قابض

فوجی چوکی
فوجی حکام نے قلعے پر حملے کی تصدیق کی ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک ہزار کے قریب مسلح مقامی طالبان نے سکاؤٹس قلعہ سراروغہ پر قبضہ کرلیا ہے۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سکاؤٹس قلعہ سراروغہ میں موجود سکاؤٹس فورس کے چالیس اہلکاروں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے جبکہ جنوبی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان حملے میں تیس سکاؤٹس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دس کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

پاکستان فوج کے تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سراروغہ قلعے پر حملہ کل رات آٹھ بجے شروع ہوا جس میں کم از کم آٹھ سپاہی ہلاک ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قلعے میں موجود سکیورٹی اہلکاروں میں سے پندرہ بحفاظت واپس لوٹ آئے ہیں البتہ باقی ماندہ پچیس اہلکاروں کی ابھی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں اب اس وقت قلعے کی صورتحال کے بارے میں معلوم نہیں کہ آیا شدت پسندوں کے قبضے میں ہے یا نہیں۔ ’ہمارا وہاں کوئی نہیں لہذا اس بارے میں میں آپ کو کچھ نہیں بتا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوابی فائرنگ سے چالیس شدت پسندوں کی بھی ہلاکت ہوئی ہے۔

جنوبی وزیرستان کی مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات ایک ہزار کے قریب مسلح مقامی طالبان نے جنوبی وزستان کے تحصیل سراروغہ میں سکاؤٹس قلعہ پر قریبی پہاڑی سلسلوں سے راکٹوں اور خود کار ہھتیاروں سے حملے شروع کیے اور سکاؤٹس فورس نے بھی جوابی کارروائی میں توپخانے اور مارٹر کا بھی استعمال کیا۔ تاہم منگل اور بدھ کی درمیانی رات دو بجے کے بعد سے سکاؤٹس اہلکارروں سے مکمل طور پر رابطہ ختم ہوگیا ہے۔

بعض دوسرے سرکاری ذرائع کےمطابق سکاؤٹس قلعہ سراروغہ میں مقامی طالبان داخل ہوگئے ہیں اور قلعہ پر طالبان کا مکمل کنٹرول ہے۔ان کے مطابق قلعہ میں سکاؤٹس فورس کے چالیس اہلکار موجود تھے جن میں سے تیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں اور دس زندہ پکڑے گئے ہیں۔

پندرہ سکیورٹی اہلکار بحفاظت واپس لوٹ آئے ہیں:فوجی ترجمان

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چار گھنٹے کی لڑائی کے بعد سکاؤٹس فورس کی جانب سے فائرنگ بند ہوگئی اور مقامی طالبان قلعہ میں داخل ہوگئے اس کے بعد مقامی طالبان نے وہاں سے اسلحہ منتقل کرنا شروع کر دیا گیا۔ بدھ کی صبح تک قلعہ کو اسلحہ سے خالی کر دیا گیا ہے۔طالبان زندہ بچ جانے والے اہلکارروں کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

بی بی سی اردو کے نمائندے ہارون رشید کے مطابق قلعے پر حملے کے بعد جنوبی وزیرستان سے ملحق ٹانک شہر میں قبائلی علاقے کی انتظامیہ نے محسود قبیلے کا ایک جرگہ طلب کیا ہے جس میں پولیٹکل ایجنٹ جنوبی وزیرستان فضل ربی نے تصدیق کی ہے کہ سراروغہ قلعے میں اڑتیس سکاوٹس اور پانچ سویلین حملے کے وقت موجود تھے۔

ان کے مطابق ان میں سے سات افراد بھاگ کر جنڈولہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں باقی چھتیس یا تو ہلاک یا پھر اغوا کر لیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے محسود جرگے سے ان افراد کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ جرگہ اب سابق رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین کی شربراہی میں اپنا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے مشورہ کر رہا ہے۔

 سوات وزیرستان کا راستہ
کیا سوات دوسرا وزیرستان بننے جا رہا ہے؟
طالبان کا وزیرستان
ہارون کے کیمرے سے خصوصی تصاویر
وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
کون کسے مار رہا ہے
وزیرستان میں کیا ہوا، کیا ہو رہا ہے، کیا ہوگا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد