اسلام آباد میں طالبان کے آثار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کی پاکستان کے دارالحکومت میں آمد کے آثار اسلام آباد کے چند سیکٹرز میں نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ ان سیکٹرز میں مارکیٹوں، کالجز، سکولوں اور گھروں کی دیواروں پر طالبان کے حق میں وال چاکنگ نظر آنے لگی ہے۔ یہ وال چاکنگ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل کی گئی ہے جس میں ’طالبان یوتھ فورس‘ اور القاعدہ سے تعلق کا اعلان کیا گیا ہے۔ زیادہ تر وال چاکنگ میں ’طالبان یوتھ فورس لحن القائدہ‘ لکھا گیا ہے۔ ایک وال چاکنگ میں طالبان کی آمد کا اعلان انگریزی میں کرتے ہوئے لکھا گیا ہے ’طالبان یہاں موجود ہیں۔ جینا ہمیں سکھا دیا غازی شہید نے‘۔ چونکہ یہ وال چاکنگ یوتھ فورس کے حوالے سے ہے اس لیے یہ زیادہ کالجز اور سکولوں کی دیواروں پر لکھائی نظر آتی ہے۔ اس امر کا اعتراف وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈیر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان وال چاکنگز سے باخبر ہیں اور اس سلسلے میں چند افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ ’ہم فوری طور پر چیف کمشنر اور انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایات دی دیتے ہیں اور اس پر عمل ہوتا ہے۔ اور مجھے امید ہے کہ کسی قسم کی وال چاکنگ اسلام آباد میں نہیں ہو گی‘۔ یہ وال چاکنگ اسلام آباد کے جی ٹین سیکٹر میں زیادہ کی گئی ہے جیسے کہ وہاں کے لڑکیوں کے کالج کی دیوار اور اس سے کچھ فاصلے پر ایک بچوں کا پرائیوٹ سکول اور اس کے بالکل سامنے ایک اور کالج کی دیواروں پر چاکنگ موجود ہے۔ ایڈووکیٹ صلاح الدین نے جو کہ مذہبی انتہا پسندی پر گہری نظر رکھتے ہیں، بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وال چاکنگ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ عسکریت پسندوں کے ابتدائی حربوں میں سے ایک ہے۔ ’وال چاکنگ سے یہ انتہا پسند حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کا ردِ عمل دیکھتے ہیں۔ اور اگر ردِ عمل کمزور ہو تو وہ اس علاقے کو اپنی کاروائیوں کے لیے زرخیز سمجھتے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیرستان اور پشاور میں بھی یہی ابتدائی حربے استعمال کیے گئے تھے اور ردِ عمل کمزور پا کر ہلکی پھلکی کاروائیاں شروع کر دیں گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلکی پھلکی کاروائیوں میں سی ڈی کی دکان پر حملے وغیرہ شامل ہیں۔
صلاح الدین نے کہا کہ سوات میں وال چاکنگ نہیں کی گئی تھی کیونکہ وہاں پر مولانا فضل اللہ نے ایف ایم ریڈیو کا استعمال کیا تھا اور یہ حربہ کافی کامیاب رہا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ سکول اور کالجوں پر اس چاکنگ کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو طالبان اپنی یوتھ فورس کا اعلان کر رہے ہیں اور دوسرا یہ کہ سرکاری کالجز اور سکولوں میں اکثریت متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ ایک آسان ہدف ہے۔ ’سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے نظامِ تعلیم ایسا ہے کہ طلبہ و طالبات ذہنی طور پر اتنے پختہ نہیں ہوتے اور ان انتہا پسندوں کے لیے آسان ہدف ہوتے ہیں۔‘ ان کالجز، سکولوں اور گھروں پر ہوئی وال چاکنگ کس نے کی اس کے بارے میں آس پاس کے لوگوں کو معلوم نہیں ہے۔ ایف ٹین کے ایک دوکاندار جنہوں نے نام بتانے سے انکار کیا ان کا کہنا تھا ’انشاء اللہ یہ طالبان کی آمد ہے اور بہت جلد اللہ اور رسول کا حکم آنے والا ہے۔ یہ جو پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ ہمیں دین سے دور لے کر جا رہے ہیں جبکہ طالبان ہم کو اللہ اور رسول کا راستہ بتاتے ہیں‘۔ اسی طرح جی ٹین میں ایک مزدور کا کہنا تھا کہ اس نے یہ وال چاکنگ پڑھی ہے اور یہ حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔’اگر یہی پالیسی رہی تو طالبان اسلام آباد آ سکتے ہیں‘۔ واضح رہے کہ طالبان کا اثر و رسوخ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں تک پھیل چکا ہے۔ صوبہ سرحد کے علاقے پشاور سے لے کر سوات اور کوہاٹ اور ڈیرہ اسمٰعیل خان تک میں مقامی طالبان اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کیا طالبان کی آمد پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد میں بھی ہو گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||