سراروغہ:حکومتی کنٹرول بحال نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ کے مطابق سراروغہ کے فوجی قلعے پر سرکاری کنٹرول ابھی بحال نہیں ہو سکا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں سینکڑوں مسلح مقامی طالبان نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب سکاؤٹس قلعہ پر حملہ کیا تھا اور متعدد سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد وہاں سے اسلحہ اور گولہ بارود لوٹ لیا تھا۔ پولیٹکل انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی صبح تک سکیورٹی فورسز کا قلعہ پر کنٹرول بحال نہیں ہو سکا۔ حکام کے مطابق مقامی طالبان نے قلعے سے اسلحہ اور گولہ بارود لُوٹنے کے بعد اسے خالی کر دیا تھا تاہم یہ لوگ قریبی پہاڑیوں سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ فوجی حکام نے سراروغہ قلعے پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اس واقعے میں آٹھ سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ جوابی کارروائی میں چالیس شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔مقامی طالبان نے سولہ اہلکاروں کی ہلاکت اور بارہ کو یرغمال بنانے کا دعوٰی کیا تھا۔
ادھر درے محسود قبائل کا جرگہ بھی ٹانک میں کسی فیصلے پر پہنچے بغیر ختم ہوگیا ہے۔جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ فضل ربی نے بدھ کو درے محسود قبائل کا ایک جرگہ قلعے کا قبضہ واپس کرنے کی غرض سے طلب کیا تھا تاہم جرگے نے حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے ہوئے مصالحتی کوشش سے انکار کر دیا ہے۔ جرگے کے مطابق حکومت کی وعدہ خلافی کے بعد وہ کس منہ سے مقامی طالبان کے پاس جائیں۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت نے مختلف جیلوں میں قید شدت پسندوں کے سات ساتھیوں کو رہا کرنا تھا اور ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں محسود قبیلے کے خلاف کارروائی بند کرنا تھی جو نہیں ہوئی۔ جرگے کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ان مطالبات کو تسلیم کرتی ہے تو پھر وہ شدت پسندوں کے پاس جانے کے لیے تیار ہیں۔ |
اسی بارے میں وزیرستان: سکاؤٹس قلعہ پرطالبان حملہ16 January, 2008 | پاکستان وزیرستان: سکاؤٹس قلعہ پرطالبان قابض16 January, 2008 | پاکستان محسود میں جیٹ طیاروں کی بمباری03 January, 2008 | پاکستان وزیرستان: تعمیراتی کمپنی کےاہلکاراغواء14 January, 2008 | پاکستان شکئی: دو غیر ملکی جنگجو ہلاک13 January, 2008 | پاکستان وزیرستان فائربندی میں توسیع01 January, 2008 | پاکستان دیرسکاؤٹس فورس کے چاراہلکار اغواء01 January, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||