BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 January, 2008, 15:22 GMT 20:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اوپر سے بمباری، نیچے توپخانے سے مارتے ہیں‘

وزیرستان (فائل فوٹو)
’علاقے سے نقل مکانی کا کوئی طریقہ نہیں ہے‘
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان کے خلاف گزشتہ کئی روز سے جاری فوجی کارروائی سے علاقے میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور مقامی آبادی بڑی تعداد میں نقل مکانی پر مجبور ہے۔

شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے عبداللہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں لوگ بے یقینی کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جہاز اور توپ خانے بمباری کر رہے ہیں۔ کوئی پتہ نہیں چل رہا کہ یہ کہاں سے آ رہے ہیں کس راستے سے۔ بڑی تکلیف سے آتی ہیں یہ گاڑیاں، پھر راستے میں تلاشیاں‘۔

عبداللہ نے مزید بتایا کہ بدھ کو میران شاہ ہسپتال لائے جانے والے زخمیوں کو بھی فوجی اپنے ساتھ لے گئے جس کے بعد شمالی وزیرستان میں بھی حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے۔’ کچھ زخمیوں کو ادھر نیاز ہسپتال لائے تھے تو آرمی والوں نے ادھر سے اٹھا لیا۔ اس پر ادھر لوگوں کو بہت غصہ ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں کو ہسپتال سے اٹھایا گیا وہ جنوبی وزیرستان کے وہی لوگ تھے جو نقل مکانی کے دوران شمالی وزیرستان آ رہے تھے۔ ان میں کوئی جنگجو وغیرہ نہیں تھے۔

 پہاڑ کی طرف لوگ جاتے ہیں تو پہاڑ کی طرف گولہ باری ہو رہی ہے۔ جب پہاڑ کی طرف سے واپس آتے ہیں اپنے گاؤں کو تو گاؤں پر گولے برسا رہے ہیں اور میزائل مارٹر وغیرہ۔
حاجی ہمیش

جنوبی وزیرستان کے ایک رہائشی حاجی غلام محمد نے بتایا کہ وہ انتہائی مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ ’ آپ لوگ اگر ہماری حالت دیکھ لیں تو آپ لوگ کھانا بھی نہیں کھائیں گے اور روئیں گے اور دن رات روئیں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اوپر سے بمباری ہو رہی ہے، نیچے سے توپ خانے سے مار رہے ہیں اور باقی جو ہے کھانے پینے کا کچھ ترکیب نہیں ہے اور پانی لینے کے لیے باہر نہیں جا سکتے‘۔

غلام محمد کے مطابق ’بارہ تیرہ دن ہو گئے ہیں تقریباً اور کھانے پینے کا کچھ سامان بھی نہیں ہے، ہم لوگ روتے ہیں، دن رات روتے ہیں، نہ نیند آتی ہے، نہ آرام آتا ہے‘۔

وزیرستان کے ہی ایک اور رہائشی حاجی ہمیش نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں نقل مکانی کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ ’پہاڑ کی طرف لوگ جاتے ہیں تو پہاڑ کی طرف گولہ باری ہو رہی ہے۔ جب پہاڑ کی طرف سے واپس آتے ہیں اپنے گاؤں کو تو گاؤں پر گولے برسا رہے ہیں اور میزائل مارٹر وغیرہ‘۔

اسی بارے میں
جنوبی وزیرستان میں جھڑپیں
25 January, 2008 | پاکستان
الگ الگ لیکن ساتھ ساتھ
24 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد