BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 January, 2008, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: ہلاکتوں کے متضاد دعوے

وزیرستان، فوج (فائل فوٹو)
سینکڑوں فوجی محسود علاقے میں آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں
پاکستان کے صوبہ سرحد کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ٹینکوں اور بھاری اسلحہ کی مدد سے مقامی طالبان کے خلاف کارروائی جمعرات کو دوسرے روز بھی جاری رہی جس میں دونوں طرف سے جانی نقصانات کے متضاد کیےگئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ فوج کے اہلکار محسود قبیلے کے علاقوں نواز کوٹ، تیارزہ اور سپن کائی میں کارروائی کررہے ہیں اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران شدت پسندوں کے ساتھ ہونے والی لڑائی میں چالیس شدت پسند ہلاک جبکہ مسلح افواج کے آٹھ جوان ہلاک اور بتیس زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ فوج نے تیس شدت پسندوں کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔

بی سی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے بیشتر ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا ہے اور نقل مکانی کرنے والے قبائلیوں کے لیے جنڈولہ اور وانا میں امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں۔

فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک علاقے میں شدت پسندوں کے ٹھکانے ختم نہ کر دیے جائیں۔

علاقے میں پہلی مرتبہ ٹینک استعمال کرنے کی حکمت عملی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ فوجی قافلوں پر پہاڑوں سے حملے ہوتے تھے جن کے جواب کے لیے ٹینک لائے گئے ہیں۔

انہوں نے مقامی طالبان کے فوجیوں کی ہلاکت کے دعوی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

جنوبی وزیرستان سے بی بی سی اردو کے نمائندے دلاور خان وزیر نے مقامی حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ فوج نے مزید پیش قدمی نہیں کی ہے۔

مقامی طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا کہ گزشتہ چوبیس گھٹنوں میں طالبان کے ساتھ جاری لڑائی میں پندرہ فوجی اہلکار ہلاک اور پچیس کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان کے جانی نقصان کے بارے میں مولوی عمر کا کہنا تھا کہ اس لڑائی میں ان کے صرف سات حامی ہلاک ہوئے ہیں۔

مولوی عمر نے دعوی کیا کہ کوہاٹ سے جنوبی وزیرستان جانے والے پاکستان فوج کے پانچ ٹرک جن میں بھاری اسلحہ اور بارود لاد ہوا تھا عملے سمیت اغواء کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے ان ٹرکوں کو اپنے محفوظ ٹھکانوں پر پہنچا دیا ہے۔

مولوی عمر نے فوج کی پیش قدمی کے بارے میں کہا کہ وہ تین مقامات جن پر فوج نے قبضے کرنے کا دعویٰ کیا تھا بدستور طالبان کے قبضے میں ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق جمعرات کی دوپہر تین بجے کے قریب پاکستان فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے سراغوغا کے مقام پر بمباری کی لیکن اس میں کسی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

اس سے قبل پاکستان فوج کی طرف سے کہا گیا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں کم سے کم 40 شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 30 کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
طالبان نڈر اور بے باک ہوگئے
16 January, 2008 | پاکستان
حکومت حامی سرداروں پر حملہ
09 November, 2007 | پاکستان
قافلے پر حملے، چھ فوجی ہلاک
12 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد