BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 January, 2008, 09:07 GMT 14:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی وزیرستان میں جھڑپیں

وزیرستان میں فوجی
محسود قبائل کے تین مختلف علاقوں میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے
جنوبی وزیرستان کے علاقے محسود میں جمعرات کی شب سے فوج اور مقامی جنگجوؤں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور لوگ علاقے سے پیدل نقل مکانی کر رہے ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں تحصیل مکین، تحصیل تیارزہ اور سپینکئی راغزائی کے علاقے سے لوگ پیدل نقل مکانی کر رہے ہیں۔اور سپینکئ راغزائی کے علاقے میں مزید دو فوجی ہلاک جبکہ سات زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات اور جمعہ کی صبح محسود کے تین مختلف علاقوں میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان میں تحصیل مکین کا علاقہ نواز کوٹ اور تحصل تیارزہ کے علاقے توروام اور سپینکئی راغزائی شامل ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے جمعرات کو کہا تھا گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران چالیس شدت پسند ہلاک جبکہ مسلح افواج کے آٹھ جوان ہلاک اور بتیس زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ فوج نے تیس شدت پسندوں کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے بیشتر ٹھکانوں کو تباہ کردیا گیا ہے اور نقل مکانی کرنے والے قبائلیوں کے لیے جنڈولہ اور وانا میں امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں۔

فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک علاقے میں شدت پسندوں کے ٹھکانے ختم نہ کر دیے جائیں۔

حکام کے مطابق سپینکئ راغزائی کے پہاڑی سلسلوں میں فوج نے طالبان کے ٹھکانوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ جہاں سے مقامی جنگجوؤں کو نکال دیا ہے۔

ادھر مقامی لوگوں کے مطابق علاقہ چگملائی میں نقل مکانی کے دوران شدید سردی سے دو کمسن بچے چل بسے ہیں۔ لیکن سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ نقل مکانی کرنے والے متاثرین کے لیے ٹانک، شمالی وزیرستان اور وانا کے مقام پر کیمپ لگائے گئے ہیں۔

دوسری جانب جنوبی وزیرستان سے متصل ضلع ٹانک میں جمعہ کو محسود اور احمدزئی وزیر قبائل کا مشترکہ جرگہ موجودہ صورتحال کے بارے میں پولیٹکل انتظامیہ سے ملاقات کریگا۔

جرگے کے ایک رکن اور سابقہ قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبد المالک نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگہ محسود علاقے کو باقی ملک سےملانے والے راستوں کو کھلونے اور متاثرین کے لیے کھانے پینے کے سامان اور بستروں کے انتظام کی کوشش کرے گا۔

جنوبی وزیرستان میں ٹینکوں اور بھاری اسلحہ کی مدد سے مقامی طالبان کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے اور دونوں طرف سے جانی نقصانات کے متضاد دعوے کیےگئے ہیں۔

اسی بارے میں
سوات: مٹہ کے نائب ناظم قتل
25 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد