سوات: مٹہ کے نائب ناظم قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شورش زدہ علاقے سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ بعض نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے تحصیل مٹہ کے نائب ناظم سمیت تین افراد کو ہلاک جبکہ دو کو زخمی کر دیا ہے۔ مٹہ پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار ہمایوں خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی دوپہر تقریباً گیارہ بجکر بیس منٹ پر اس وقت پیش آیا جب تحصیل مٹہ کے نائب ناظم محمد ذاکر خان اپنے دیگر پانچ ساتھیوں کے ہمراہ اپنی گاڑی میں ایک میٹنگ میں شرکت کرنے کے لیے جا رہے تھے کہ کالاکوٹ کے چتری چنار کے مقام پر بعض نامعلوم مسلح افراد نے ان پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ انکے بقول حملے کے نتیجے میں محمد ذاکر خان، انکے بھائی شاکر خان سمیت تین افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں۔انکے مطابق حملہ آور جائے وقوعہ سےفرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ محمد ذاکر خان کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنما افضل خان لالا کے خاندان سے بتایا جاتا ہے۔افضل خان لالا اور انکے بھتیجے تحصیل مٹہ کے ناظم عبدالجبار خان بھی تین ماہ قبل ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے تھے جبکہ انکے دو دیگر ساتھی ہلاک ہوگئے تھے۔
محمد ذاکر خان اے این پی سوات کے صدر محمد ایوب کے صاحبزادے ہیں۔اس سے دس روز قبل بھی مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کی وردیوں میں ملبوس بعض نامعلوم مسلح افراد نے اے این پی سوات کے نائب صدر بخت بیدار کو امام ڈھیرئی میں واقع اپنے گھر سے باہرنکال کر قتل کردیا تھا۔ مقامی طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد سیاسی شخصیات پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تین ہفتے قبل سابق والی سوات میاں گل اورنگزیب کے صاحبزادے اور مسلم لیگ قائداعظم کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار اسفند یار اورنگزیب کو انتخابی مہم کے دوران ہونے والے ایک بم دھماکے میں ہلاک کردیا گیا تھا۔ اسکے علاوہ دو ہفتے قبل بھی پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز سوات کے نائب صدر محمد شیر خان کو تحصیل مٹہ میں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر شدید زخمی کردیا تھا جبکہ سوات کے ضلعی ناظم جمال عبدالناصر کے گھر کو چھ ماہ قبل نامعلوم افراد نے نذر آتش کردیا تھا جسکے بعد سے وہ اپنے خاندان کے ہمراہ اسلام آباد منتقل ہوگئے ہیں۔ ان تمام واقعات میں مبینہ طور پر ملوث کسی بھی ملزم کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔ابھی تک کسی نے بھی ان واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے اور نہ ہی حکومت نے باقاعدہ طور پر کسی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس سے قبل وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں بھی تقریباً تین سو سے زیادہ قبائلی مشران اور حکومت یافتہ افراد کو قتل کیا جا چکا ہے تاہم سوات میں بھی جاری کشیدگی کے بعد سیاسی شخصیات کو نشانہ بنانے کے رجحان میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ |
اسی بارے میں سوات آپریشن میں 41 گرفتار12 January, 2008 | پاکستان طالبان روپوش، حکومت بھی غائب30 November, 2007 | پاکستان سوات: سی ڈی دکانوں پر دھماکہ07 September, 2007 | پاکستان سوات دھماکہ: ایک ہلاک، چار زخمی20 September, 2007 | پاکستان سوات: چوکی پرحملہ، ایک ہلاک22 September, 2007 | پاکستان فوجی قافلے پر حملہ، 20 ہلاک25 October, 2007 | پاکستان سوات: عینی شاہد ین نے کیا دیکھا25 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||