BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 November, 2007, 13:53 GMT 18:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان روپوش، حکومت بھی غائب

سوات
مقامی لوگ جنگجوؤں کے جانے کے بعد ان کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں اور ان کو علاقے میں ہونے والی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں

پاکستان کی وادی سوات میں تین تحصیلوں اور ملحقہ ضلع شانگلہ کے صدر مقام الپوری سے مولانا فضل اللہ کے حامی عسکریت پسندوں کی طرف سے راتوں رات تمام علاقوں کا کنٹرول چھوڑ کر نامعلوم مقام کی طرف روپوشی نے ایک بار پھر کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

تقریباً ایک ماہ قبل مقامی جنگجوؤں نے سوات کی تین تحصیلوں خوازہ خیلہ، مٹہ، مدئن اور ضلع شانگلہ کے صدر مقام الپوری پر بغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کر کے وہاں قائم تمام پولیس تھانوں اور دیگر سرکاری عمارات کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ حکومت نے اس قبضے سے پہلے سوات میں ڈھائی ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کئے تھے تاہم اس کے باوجود مولانا فضل اللہ کی حامیوں کو سرکاری عمارات کا کنٹرول حاصل کرنے میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔

حکومت غیر حاضر
 عسکریت پسندوں کی طرف سے علاقے خالی کرنے کے بعد تاحال وہاں سکیورٹی فورسز کے اہلکار داخل نہیں ہوئے ہیں۔ وہاں تھانے اور دیگر سرکاری عمارات خالی ہیں۔ نہ تو وہاں اب پولیس اور نہ سکیورٹی اہلکار ہیں اور نہ ہی شدت پسند، شاید پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کے کسی علاقے میں عوام بغیر حکومت کے رہ رہے ہیں۔
اس وقت بھی یہ ایک بہت بڑا سوال تھا کہ کیسے پولیس اہلکار بغیر کسی مزاحمت کے تھانے چھوڑ کر ان کو عسکریت پسندوں کے حوالے کررہے ہیں، سکیورٹی فورسز نے کیوں باوجود اس کے کہ حکومت کی عملداری کھلی طورپر چیلنج کی گئی ہے مسلح افراد کے خلاف کارروائی کرنے میں تاخیر سے کام لیا؟

لیکن اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعی عسکریت پسند اس قابل نہیں تھے کہ سوات کی تین تحصیلوں اور شانگلہ کے کچھ علاقوں کا کنٹرول ایک لمبے عرصہ تک اپنے پاس رکھ سکیں تو پھر انہوں نے ان علاقوں پر قبضہ کیوں کیا؟

کیا انہیں معلوم نہیں تھا کہ آخر اس قبضے کی انہیں بھاری قیمت ادا نہیں کرنا پڑے گی اور کیا عسکریت پسندوں کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ حکومت کو چیلنج کرنا بچوں کا کھیل نہیں؟

مقامی لوگ بھی جنگجوؤں کے جانے کے بعد اب ان کے خلاف مظاہرے اور جلسے جلوس کررہے ہیں اور ان کو علاقے میں ہونے والی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ پہلے بظاہر یہی لوگ ان کے حمایتی نظر آتے تھے اور اس کی وجہ شاید خوف تھی۔

تاہم سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان میجر امجد اقبال کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے راتوں رات علاقے چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ سکیورٹی فورسز کا ناجیہ ٹاپ اور سیگرام کی پہاڑوں پر قبضہ ہے۔ ان کے بقول ’یہ وہ اہم پہاڑی علاقے ہیں جو مٹہ اور خوازہ خیلہ کو آپس میں ملانے کے علاوہ عسکریت پسندوں کے لیے رسد کی فراہمی کا اہم ذریعہ بھی تھے، جس سے شدت پسندوں کے مورچے بالکل محفوظ تھے اور ان کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں تھا‘۔

میجر امجد اقبال کے مطابق ناجیہ ٹاپ اور سیگرام پر حکومتی فورسز کا قبضہ ہوجانے کے بعد عسکریت پسندوں کےلئے اپنے مورچوں کی حفاظت کرنا مشکل ہوگیا تھا لہذا وہ فرار ہوگئے۔

علاقہ خالی کرنے کی وجہ
 شدت پسندوں کے راتوں رات علاقے چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ سکیورٹی فورسز کا ناجیہ ٹاپ اور سیگرام کی پہاڑوں پر قبضہ ہے۔ ان کے بقول ’یہ وہ اہم پہاڑی علاقے ہیں جو مٹہ اور خوازہ خیلہ کو آپس میں ملانے کے علاوہ عسکریت پسندوں کے لیے رسد کی فراہمی کا اہم ذریعہ بھی تھے، جس سے شدت پسندوں کے مورچے بالکل محفوظ تھے اور ان کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں تھا
حکومتی ترجمان
اس کے باوجود زیادہ تر لوگوں کی رائے یہی ہے کہ سوات کے حالات کو ایمرجنسی کے نفاذ کے لئے بطور ایک جواز پیش کیا گیا جبکہ خود صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے بھی قوم سے خطاب میں اس بات کا اقرار کیا تھا کہ ہنگامی حالات کا نفاذ اس لئے ضروری ہو گیا تھا کیونکہ ان کے پاس اختیارات نہیں تھے کہ وہ سوات میں عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی کرسکیں۔

سوات میں تقریباً ایک ماہ سے جاری آپریشن میں اطلاعات کے مطابق زیادہ تر شہری نشانہ بنے ہیں جبکہ ان کاروائیوں میں ویسے حکومت تو ایک سو بیس عسکریت پسندوں کے مارنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن ہلاک ہونے والوں میں مٹہ کے کمانڈر خان خطاب کے علاوہ عسکریت پسندوں کا کوئی قابل ذکر کمانڈر نہیں تھا۔

گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بھی محدود پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں جبکہ ان میں استعمال ہونے والے بم بھی بظاہر زیادہ تباہ کن نہیں تھے۔

اس آپریشن میں توپ خانے کا ویسے تو بے دریغ استعمال کیا گیا لیکن ان سے بھی زیادہ جانی نقصان دیکھنے میں نہیں آیا۔ رات کے وقت عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر کئی اطراف سے شدید گولہ بھاری ہوتی تھی اور اس کی شدت سے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے سارا علاقہ تباہ و برباد ہوا ہوگا لیکن صبح جاتے تو ایک آدھے علاقے سے ایک ہلاکت کی اطلاع ملتی اور چار پانچ زخمی ہوتے۔

رات کے وقت زیادہ تر پہاڑی علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا حالانکہ عسکریت پسند شہری علاقوں میں ہوتے تھے۔

عسکریت پسندوں کی طرف سے علاقے خالی کرنے کے بعد تاحال وہاں سکیورٹی فورسز کے اہلکار داخل نہیں ہوئے ہیں۔ وہاں تھانے اور دیگر سرکاری عمارات خالی ہیں۔ نہ تو وہاں اب پولیس اور نہ سکیورٹی اہلکار ہیں اور نہ ہی شدت پسند، شاید پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کے کسی علاقے میں عوام بغیر حکومت کے رہ رہے ہیں۔

سواتعسکری جغرافیہ
ضلع سوات میں شدت پسند کہاں کہاں؟
سوات میں عسکریت پسند(فائل فوٹو)سوات کے جنگجو
جنگجوگروپ ’نیٹ ورک‘ کی صورت سرگرم
سوات کا سفرنامہ
’آپ کی خدمت کے لئے، طالبان سٹیشن مٹہ‘
سواتی بچےلوگوں کی پریشانی
سوات: ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور
اسی بارے میں
سوات: طالبان کے مورچے خالی
27 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد