BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 January, 2008, 15:00 GMT 20:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات:پرامن انتخابات، ایک کڑا امتحان

سوات خودکش حملہ
سوات کے زمینی حقائق حکومتی دعوؤں کی نفی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں پُر امن انتخابات کا انعقاد حکومت اور پاکستان الیکشن کمیشن کے لیے ایک کڑے امتحان سے کم نہیں۔

ڈائریکٹر ملٹری آپریشنز میجر جنرل احمد شجاع پاشا نے بدھ کے روز اسلام آباد میں کہا تھا کہ سوات میں شروع کیے گئے فوجی آپریشن ’راہِ حق‘ کے مقاصد حاصل کرلیے گئے ہیں اور وادیءِ سوات کو عسکریت پسندوں سے پاک کردیا گیا ہے۔ لیکن سوات کے زمینی حقائق حکومتی دعوؤں کی نفی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اگرچہ دو روز قبل مولانا فضل اللہ کے حامی علاقوں بشمول تحصیل کبل اور مٹہ میں کرفیو میں نرمی کردی گئی ہے۔ لیکن اس عمل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان علاقوں سے عسکریت پسندوں کی موجودگی اور اثر رسوخ کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔

گذشتہ پیر کو رات گئے مولانا فضل اللہ کے آبائی علاقے مام ڈھیری سے تعلق رکھنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما بخت بیدار کو گھر سے اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ مبیینہ عسکریت پسند قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی وردی میں ملبوس تھے۔

اس واردات کی مذمت کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبہ سرحد کے سربراہ افراسیاب خٹک نے کہا کہ اس واردات نے حکومت کے سوات میں امن قائم کرنے کے حوالے سے کیے گئے دعووں اور متاثرہ علاقہ میں زمینی حقائق کے بیچ پائے جانے والے فرق کو واضح کردیا ہے۔

عسکریت پسندوں کے اثر رسوخ اور اُن کی موجودگی کے باعث علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عسکریت پسندوں کے درمیان مسلح تصادم کو خطرہ ہر وقت موجود ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی وقت تشدد پر مبنی کسی واردات کا وقوع پذیر ہونا خارج از امکان نہیں۔

خوف کی فضا کی وجہ سے انتخابی سرگرمیاں ماضی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کے علاوہ اس چلاقے سے متحدہ مجلسِ عمل خصوصاً جمیعت علماء اسلام کے امیدوار انتخابی مہم چلانے میں پراعتماد نہیں دکھائی دے رہے۔

مقامی صحافی شرین زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدواروں نےاب تک کوئی بڑا انتخابی جلسہ منعقد نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کو رابطہ عوام تک محدود رکھنے پر اکتفا کیا ہے جبکہ متحدہ مجلسِ عمل کے امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم کو مساجد تک محدود رکھا ہوا ہے۔

ایسے حالات میں امیدوار اپنی انتخابی مہم آزادانہ انداز میں نہیں چلا سکتے تو آئندہ عام انتخابات کا منصفانہ بنیادوں پر انعقاد کیونکر ممکن ہوگا؟ اور اگر ان حالات میں انتخابات منعقد ہو بھی گئے تو کیا وہ علاقے کے عوام کی رائے اور تمناؤں کے عکاس ہونگے؟

سوات سے صوبائی نشست کے امیدوار اسفندیار امیر زیب کو اٹھائیس دسمبر کو بم حملے میں ہلاک کر دیا گیا جس کے بعد انتخابات ملتوی کردیے گئے ہیں۔ جبکہ صوبائی اسمبلی کی ایک اور نشست کے امیدوار کو عسکریت پسندوں کی جانب سے مبیینہ طور پر دھمکیاں دیے جانے کی اطلاع ہے۔

امیدواروں کے پروگرام سے ووٹر بخوبی واقف ہیں لہٰذا انتخابی مہم کی افادیت سے زیادہ یہ امر اہمیت کا حامل ہے کہ انتخابات والے دن پولنگ اسیٹشنوں پر ووٹروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے گی یا نہیں۔
اے این پی کے رہنماء افضل خان لالہ

عوامی نیشنل پارٹی کے سوات کی تحصیل مٹہ سے تعلق رکھنے والے سینیئر رہنما افضل خان لالہ نے بی بی سی سے کہا کہ ’جس طرح آرمی کا دعویٰ ہے کہ وہ پیش قدمی کررہے ہیں تو اگر یہ پیش قدمی جاری رہی اور اٹھارہ فروری کو پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی حفاظت کو یقینی بنادیا گیا تو پھر امکان ہے کہ سوات میں بھی دوسرے علاقوں کی طرح انتخابات وقتِ مقررہ پر منعقد ہوجائیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ وزیرستان میں طالبان کے بڑھتے ہوئے اثرات سے ضلع سوات بھی محفوظ نہیں رہ سکا ۔

’بدقسمتی سے طالبان کی تحریک کی وجہ سے مخالفین کے گلے کاٹنے کو اسلام کی علامت سمجھا جانے لگا ہے اور اس سے تو قبائلی علاقے کرم ایجنسی کو بھی محفوظ نہیں رکھا جاسکا۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں لگتا کہ اٹھارہ فروری سے پہلے سوات میں حالات اس قدر بہتر ہو سکیں کہ امیدوار بلا خوف و خطر انتخابی جلسے منعقد کرسکیں ۔

’ امیدواروں کے پروگرام سے ووٹر بخوبی واقف ہیں لہٰذا انتخابی مہم کی افادیت سے زیادہ یہ امر اہمیت کا حامل ہے کہ انتخابات والے دن پولنگ اسیٹشنوں پر ووٹروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے گی یا نہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد