’ ہم پر تو دہشت گردوں کی چھاپ لگ گئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوات میں مولانا فضل اللہ کے حامی عسکریت پسندوں کی طرف سے ان کے مرکز امام ڈھیری خالی کرنے کے بعد وہاں رہنے والے لوگوں کے نظریات تبدیل ہورہے ہیں اور کل تک شدت پسندوں کی حمایت کرنے والے آج ان کے نہ صرف مخالف نظر آتے ہیں بلکہ ان کو علاقے کے امن کے لیے خطرہ بھی تصور کر رہے ہیں۔ امام ڈھیری گاؤں کے ایک رہائشی جاوید جان نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگ پہلے بھی عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں سے خوش نہیں تھے۔ ان کے بقول ’ مولانا فضل اللہ نےعلاقے میں قرآن پڑھانے کا جو پروگرام شروع کر رکھا تھا وہ تو ٹھیک تھا لیکن لوگ علاقے میں اسلحہ بردار اور مشکوک لوگوں کے آنے جانے سے خوش نہیں تھے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’امام ڈھیری گاؤں کے لوگوں کے لیے اب زندگی گزارنا اور بھی مشکل ہوگیا ہے کیونکہ اب ہم پر تو دہشتگردوں کی چھاپ لگ گئی ہے، ہم اب کسی کو ڈر کی وجہ سے امام ڈھیری کا رہائشی نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہر کوئی شک کرتا ہے‘۔ عسکریت پسندوں کے خالی کردہ علاقوں ڈھیرئی، کوزہ بانڈئی اور براہ بانڈئی میں بھی زیادہ تر لوگ شدت پسندوں کے جانے کے بعد خوش دکھائی دے رہے ہیں۔ کوزہ بانڈئی کے ایک باشندے محمد یاسین کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کے جانے پر لوگ اتنے خوش ہیں کہ بیان نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ’ہمارے خوشی کے دن تو اب شروع ہوگئے ہیں۔ پہلے تو ہم خوف کی وجہ سے کچھ نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ وہ لوگ تو بندوق کے علاوہ کوئی بات نہیں کرتے تھے اور زیادہ تر شریف لوگ تو علاقہ چھوڑ کر یہاں سے چلے گئے تھے‘۔ اس سلسلے میں عسکریت پسندوں کا موقف معلوم کرنے کے لیے ان کے ترجمان سراج الدین سے بارہا رابطے کی کوشش کی گئی تاہم ان سے بات نہیں ہو سکی۔ مینگورہ شہر کے قریب واقع امام ڈھیری گاؤں تقریباً ایک ہفتہ قبل تک مقامی جنگجوؤں کے مرکز کے طورپر جانا تھا لیکن آج یہ علاقہ سنسان دیکھائی دیتا ہے۔ نہ تو اب وہاں جنگجو موجود ہیں اور نہ سکیورٹی فورسز۔ تقریباً چھ سے سات کنال رقبے پر مشتمل مولانا فضل اللہ کا مرکز جہاں پہلے لوگ جاتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے اب وہاں کوئی جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔امام ڈھیری مرکز اور اردگرد کے علاقے میں خاموشی دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ جیسے یہاں کوئی رہتا ہی نہ تھا۔ سوات میں فوجی کارروائیوں کے دوران امام ڈھیری گاؤں اور مرکز پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے کئی فضائی حملے اور گولہ باری کی گئی جس کی وجہ سے وہاں رہنے والے تقریباً تمام افراد نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی تھی۔ سوات میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے عسکریت پسندوں کے خالی کردہ علاقوں کا کنٹرول سنبھالنےکے بعد نقل مکانی کرنے والے لوگ واپس اپنے اپنے علاقوں میں آ رہے ہیں۔ تاہم امام ڈھیری گاؤں میں اب بھی سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ علاقے کے مکین واپس آنے میں سخت خوف محسوس کر رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نہ تو حکومت کی جانب سے ان کو گاؤں آنے کا کہا جا رہا ہے اور نہ مقامی سطح پر اس سلسلے میں کوئی فیصلہ ہوا ہے اس لیے لوگ مخمصے کا شکار ہیں۔ ایک شخص حیات اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’لوگ سخت کشمکش کا شکار ہیں کیونکہ نہ توگاؤں میں پولیس ہے اور نہ سکیورٹی اہلکار۔ سب لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں‘۔ ان کے مطابق ’آپریشن کے دوران امام ڈھیری گاؤں پر سخت حملے کیے گئے اور لوگ اس لیے بھی یہاں آنے سے کترا رہے ہیں کہ ایسا نہ ہوں دوبارہ بمباری شروع ہو جائے جبکہ یہاں پولیس اور سکیورٹی اہلکار بھی نہیں آئے ہیں۔ ان حالات میں کون یہاں آئے گا‘۔ |
اسی بارے میں بارہ سوسکول بند، تقریباً دو لاکھ طلباء متاثر25 November, 2007 | پاکستان سوات میں ووٹنگ، ایک بڑا چیلنج27 November, 2007 | پاکستان سوات: طالبان کے مورچے خالی27 November, 2007 | پاکستان حکومت کی ذمہ داری عوام نے نبھائی26 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||