سوات: اہلکاروں نے انتظام سنبھال لیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے کانجو سے لیکر مٹہ تک تمام علاقے کا کنٹرول سنبھال لیاہے اور سڑکوں پر گشتیں بھی شروع کردی ہے۔ دوسری طرف لڑائی کی وجہ سے مختلف علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لوگ تیزی سے اپنے گھروں کو واپس آ رہے ہیں جبکہ بعض لوگوں نے عسکریت پسندوں کے چلے جانے پر خوشی کا اظہار بھی کیا ہے۔ مینگورہ میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے مقامی فوجی ترجمان میجر امجد اقبال نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے یونین کونسل کانجو سے لیکر مٹہ تک تمام علاقے کو کنٹرول کرنے کے بعد وہاں چوکیاں قائم کردی ہے جہاں پر میں فرنٹیر کور، فرنٹیر کانسٹیبلری اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بریم پل اور پیر کلی پر سکیورٹی فورسز نے تو پہلے ہی قبضہ کر رکھا تھا تاہم اب وہ وہاں اپنے مورچوں کو مزید مستحکم کر رہی ہیں۔ میجر امجد اقبال نے دعوی کیا کہ شانگلہ اور سوات میں اب تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں دو سو تیس عسکریت پسند مارے جاچکے ہیں جن میں ان کے بقول کچھ غیر ملکی بھی شامل تھے۔ تاہم انہوں نے غیر ملکیوں کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے۔
میجر امجد اقبال نے مزید بتایا کہ گزشتہ رات بھی سکیورٹی فورسز نے توتانو بانڈئی، گٹ پیوچار اور کوز شوور کے علاقوں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی تاہم ہلاکتوں کے بارے میں انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ سوات میں آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک علاقے میں مکمل امن قائم نہیں ہوجاتا۔ ادھر علاقے میں رات کے وقت سکیورٹی فورسز کی طرف سے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ دن کے وقت گن شپ ہیلی کاپٹر بھی گشت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پیر کی صبح سوات کے مختلف علاقوں میں ہیلی کاپٹروں سے دو قسم کے پمفلٹ پھینکے گئے ہیں جس میں مولانا فضل اللہ کو مبینہ طور ہندوستان، اسرائیل اور افغانستان کا ایجنٹ قرار دیا گیا ہے۔ اردو زبان میں کمپیوٹر کے ذریعے لکھے گئے ایک پمفلٹ میں مولانا فضل اللہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’ وہ بہادر اور غیور کشمیری مجاہدین کو اپنے مضموم ارادوں کی تکمیل کےلیے استعمال کر رہا ہے۔‘ دوسرے پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج چاہتی ہے کہ سوات میں ماضی جیسی رونق، خوشحالی اور امن ہو اورعوام کو تکلیف پہنچائے بغیر علاقے سے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جائے۔ |
اسی بارے میں بارہ سوسکول بند، تقریباً دو لاکھ طلباء متاثر25 November, 2007 | پاکستان سوات میں ووٹنگ، ایک بڑا چیلنج27 November, 2007 | پاکستان سوات: طالبان کے مورچے خالی27 November, 2007 | پاکستان حکومت کی ذمہ داری عوام نے نبھائی26 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||