BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 January, 2008, 15:04 GMT 20:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرگودھا حملے کے ذمہ دار گرفتار

سرگودھا میں ائیرفورس کی بس پر خودکش حملہ
ائیرفورس کی بس پر حملے میں آٹھ افسران ہلاک ہوئے تھے۔
پنجاب پولیس نے سرگودھا میں پاکستان ائر فورس کی بس پر خود کش حملہ کے الزام میں پانچ افراد کو گرفتار کیاہے۔

یکم نومبر سنہ دو ہزار سات کو ہونے والے اس مبینہ خود کش حملے میں پاکستان ایر فورس کے آٹھ افسروں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

گرفتار کیے گئے ملزمان کو ریجنل پولیس افسر کی پریس کانفرنس میں صحافیوں کے روبرو پیش کیا گیا۔ایک ملزم عمر فاروق نے کہا کہ ’وہ لال مسجد کے شہریوں کی ہلاکت اور وزیرستان میں بمباری کے انتقام میں پرتشدد کارروائیاں کرتے ہیں۔‘

جب ان سے کہا گیا کہ اس میں بے گناہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں تو ملزم نے کہا کہ یہ تو ہوتا ہے۔ ’ہم بھی تومرتےہیں دوسرے بے گناہ بھی مارے جاتے ہیں۔‘

تاہم اس موقع پر پولیس نے صحافیوں کو ملزمان سے زیادہ سوال نہیں کرنے دئیے۔

سرگودھا کے ضلعی پولیس افسر وسیم احمد خان نے بعد میں ٹیلی فون پر بی بی سی کو کہا کہ ملزمان وزیرستان کے مقامی طالبان کے پنجابی ساتھی ہیں اور پنجاب میں دہشت گردی کے لیے نہ صرف سازش تیار کرتے تھے بلکہ خود کش بمبار کا انتخاب ، اس کی تربیت اور اسے دھماکہ خیز مواد بھی فراہم کیا کرتے تھے۔

ملزمان سے پندرہ پندرہ کلو کے دو بم،خودکش حملہ آوروں کی جیکٹس کا سامان اور دس کلو کا پریشرککر بم برآمد ہوا ہے۔پولیس کے بقول ملزمان سے ڈیٹیونیٹر اور بم بنانے کے دیگر آلات بھی برآمد ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے پانچ افراد میں گینگ کا مبینہ ماسٹر مائینڈ عمر فاروق عرف حسنین معاویہ عرف عبداللہ اورنائب محمد اصغر شامل ہیں۔ان کے علاوہ محمد ابراہیم، سکنداور خالد عثمان بھی گرفتار ہوئے ہیں، پولیس کے مطابق تمام افراد سرگودھاکے ہی رہائشی تھے۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس وسیم احمد خان نےکہا کہ ملزمان کو ایک روز پہلے ہی گرفتار کیا گیا اور انہی کی نشاندہی پر ان کا چھٹا ساتھی چکوال سے پکڑا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان کے دیگر ساتھی بھی ہیں جو ان کی اطلاع کے مطابق راولپنڈی اور لاہور سمیت مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان ملزموں کے ٹارگٹ میں سابق وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی سمیت ملک کی دیگر ٹاپ لیڈر شپ بھی شامل ہے تاہم ایس پی نے دیگر اہم شخصیات کے نام نہیں لیے۔

ضلعی پولیس افسر نے بتایا کہ ملزمان پنجاب کے علاقوں سے ایسے نوجوانوں کو تلاش کرتے جو خود کش بمبار بن سکتے ہیں اور برین واشنگ کےبعد انہیں وزیرستان تربیت کے لیے بھجوایا کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وزیرستان کے مقامی جنگجوؤں سے قریبی رابطے میں رہتےتھے۔

انہوں نے کہا کہ انہی ملزموں کے تیارکردہ ایک خود کش بمبار نے اگست سنہ دوہزار سات کو سرگودھا کے پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ کیا تھا تاہم پولیس کے ایک اے ایس آئی نے اس حملہ کو ناکام بنایا اس حملے میں اے ایس آئی اور خود کش حملہ آور دونوں ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں
ناکام خودکش حملہ، دو ہلاک
02 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد