درہ آدم خیل میں فوج کی تلاشی مہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں مبینہ مقامی طالبان کے خلاف جمعہ کو سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ طالبان نےاس علاقے میں ایک فوجی چوکی پر حملے کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کے سات اہلکاروں کی ہلاکت اور پندرہ کو یرغمال بنانے کا دعوٰی کیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ان چار ٹرکوں کو بازیاب کرانے کے لیے درہ آدم خیل کے علاقے کو سیل کر کے سرچ آپریشن شروع کیا ہے جنہیں جمعرات کو مسلح افراد نے قبضے میں لے لیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولٹیکل انتظامیہ کی جانب سے جرگے کے ذریعے مسئلہ حل نہ ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقہ کا محاصرہ کر کے آپریشن شروع کیا ہے۔ دوسری طرف تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعوٰی کیا ہے کہ مقامی طالبان نے کوہاٹ سرنگ کے قریب واقع پہاڑ پر موجود سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر حملہ کیا ہے جس میں بقول ان کے سات اہلکاروں کو ہلاک جبکہ چودہ کو یرغمال بنا لیا گیا۔ ان کے دعوے کے مطابق درہ آدم خیل کے اخروال کے علاقے میں سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں ایک فوجی ہلاک جبکہ چار زخمی ہوگئے ہیں تاہم ان کا کوئی ساتھی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اغواء کیے جانے والے اسلحہ اور بارود سے لدے ٹرک اب بھی محفوظ مقام پر طالبان کے قبضے میں ہیں۔ تاہم پاکستانی فوج کے ترجمان نے طالبان کے ہاتھوں سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں یا یر غمال بنائے جانے کی سختی سے تردید کی ہے۔انہوں نے کہا کہ درہ آدم خیل میں کوئی باقاعدہ آپریشن شروع نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان کوئی جھڑپ ہوئی ہے۔ مولوی عمر نے صوبہ سرحد کے علاقے ٹل میں بھی سکیورٹی فورسز کے دو اہلکاروں کو گاڑی سمیت اغواء کرنے اور جمعرات کی شب باجوڑ میں عنایت کلی اور خار میں موجود سکیورٹی فورسز کے قلعہ پر حملہ کر کے پانچ اہلکاروں کو ہلاک جبکہ چھ کو زخمی کرنے کا دعوی کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طالبان تحریک کے سربراہ بیت اللہ محسود، باجوڑ کے مولانا فقیر محمد، مہمند ایجنسی کے عمر خالد اور سوات میں طالبان کے رہنماء مولانا فضل اللہ نے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں موجود اپنے ساتھیوں کے نام ایک خط جاری کیا ہے جس میں سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے کا باقاعدہ حکم دیا گیا ہے۔ درہ آدم خیل میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کشیدگی کی وجہ سے صوبہ سرحد کو بلوچستان، سندھ اور جنوبی اضلاع سے ملانے والی واحد کوہاٹ سرنگ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سرنگ کے دونوں جانب سینکڑوں گاڑیاں قطاروں میں کھڑی نظر آرہی ہیں جبکہ درہ آدم خیل سے درجنوں خاندانوں کی کوہاٹ اور پشاور کی جانب نقل مکانی کی بھی اطلاعات ہیں۔ اسلحے کی فیکٹریوں کے لیے مشہور درہ آدم خیل پشاور سے تقریباً پچاس کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور یہ علاقہ گزشتہ دو سال سے ایسے مسلح نامعلوم افراد کا گڑھ بن چکا ہے جنہیں مقامی طور پر طالبان کا نام دیا جاتا ہے۔ اس علاقے میں موجود لڑکیوں کے سکولوں، حجام اور منشیات اور ویڈیو سی ڈی فروخت کرنے والی دکانوں کو بھی مسلسل بم حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ | اسی بارے میں جنوبی وزیرستان: جھڑپیں، نقل مکانی جاری25 January, 2008 | پاکستان نوشہرہ میں خفیہ ادارے کا اہلکار قتل21 October, 2007 | پاکستان درّہ آدم خیل میں کشیدگی ختم 10 August, 2007 | پاکستان درہ آدم خیل: جھڑپ میں تین ہلاک07 August, 2007 | پاکستان درہ: اسلحہ قیمتوں میں اضافہ 25 July, 2007 | پاکستان ’حملہ آوروں کا تعلق درے سے نہیں‘17 June, 2007 | پاکستان درہ آدم خیل: حجام کی دکان میں دھماکہ02 May, 2007 | پاکستان تعلیمی اداروں میں پردہ ضروری22 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||