BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 July, 2007, 15:51 GMT 20:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
درہ: اسلحہ قیمتوں میں اضافہ

اسلحہ
درہ آدم خیل میں اسلحہ سازی کے تقریباً ساٹھ کارخانے موجود ہیں
پاکستان میں حالیہ دنوں میں خود کش دھماکوں، بم حملوں اور امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بعد اسلحہ کی تیاری کے لیے عالمی شہرت یافتہ نیم خود مختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں اسلحے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ بارود کی مانگ میں اضافے کے باعث اسکی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

پشاور کے جنوب میں تقریباً پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع درہ آدم خیل کا شمار ملک میں مقامی طور پر تیار ہونے والے اسلحہ کے سب سے بڑے مرکز کے طور پر ہوتا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ کی آبادی پر مشتمل اس علاقے میں اسلحہ سازی کے ساٹھ کارخانے قائم ہیں جس میں عام طورپر ہلکے ہتھیار تیار کیے جاتے ہیں۔ ان ہتھیاروں میں پستول، کلاشنکوف ، ریپیٹر ، ڈبل اور سنگل بیرل کی بندوقیں قابل ذکرہیں۔

درہ آدم خیل بازار میں داخل ہوتے ہی آپ کو ہر طرف فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں گی۔ یہ فائرنگ اسلحہ کے خریدار کرتے ہیں جو بندوق یا پستول خریدنے سے پہلے اسے ’ ٹیسٹ‘ کرتے ہیں۔

درہ آدم خیل بازار میں دو ہزار کے قریب دکانیں قائم ہیں جس میں لگ بھگ اٹھارہ سو دکانیں اسلحے کی بتائی جاتی ہیں۔

اسلحہ کے کاروبار سے وابستہ اکثریتی ڈیلروں کا کہنا ہے جب سے ملک میں خود کش دھماکوں اور بم حملوں میں تیزی آئی ہے علاقے میں مقامی طور پر تیار شدہ اور بیرونی ممالک سے درآمد ہونے والے ہتھیاروں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بازار میں فائرنگ
 درہ آدم خیل بازار میں داخل ہوتے ہی آپ کو ہر طرف فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں گی۔ یہ فائرنگ اسلحہ کے خریدار کرتے ہیں جو بندوق یا پستول خریدنے سے پہلے اسے ٹیسٹ کرتے ہیں

درہ آدم خیل بازار میں اسلحہ کے ایک دوکاندار شیر اکبر آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران چھوٹے ہتھیاروں کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا ہے اور شاید اسکی وجہ بھی ملک میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جس طرح چھوٹے موٹے اسلحہ کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے اس سے لگتا ہے کہ لوگوں کو اپنی حفاظت کی فکر لگ گئی ہے کیونکہ یہ اسلحہ عام طور گھروں میں اپنے حفاظت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔‘

شیر غلام اینڈ سنز آرمز ڈیلر کے مالک محمد آصف نے بتایا کہ اسلحہ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ افغانستان سے ہتھیاروں کی سمگلنگ کی بندش بھی ہے۔

ان کے مطابق پہلے پڑوسی ملک سے اسلحہ کی بڑی تعداد میں سمگلنگ ہوتی تھی لیکن حامد کرزئی کی حکومت قائم ہونے کے بعد وہاں سے اسلحہ آنے کا سلسلہ بند ہوگیا ہے جس سے مقامی مارکیٹوں میں تیزی آئی ہے۔

ان کے بقول ’پہلے کلاشنکوف کی قیمت دس سے پندرہ ہزار روپے تھی لیکن آجکل یہ قیمت پچیس ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح تیس بور پستول جو درہ آدم خیل کا سپیشل سمجھا جاتا ہے اسکی قیمت چار ہزار سے سات ہزار تک پہنچ گئی ہے، ڈبل اور سنگل بیرل بندوقیں اور رپیٹیر کی قیمتیں بھی پچاس سے ساٹھ فیصد تک بڑھی ہیں۔‘

مقامی طورپر تیار ہونے والے اس اسلحے کے زیادہ تر خریداروں کا تعلق صوبہ سرحد، پنجاب اور قبائلی علاقوں سے بتایا جا رہا ہے۔

محمد آصف نے بتایا کہ بیرونی ممالک سے درآمد ہونے والے ’ انگلش‘ اسلحہ کے خریدار پنجاب سے بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ درہ آدم خیل میں اسلحہ ساز فیکٹریوں میں کام کرنے والے کاریگروں اور مزدوروں کا تعلق زیادہ تر پنجاب کے علاقوں سے ہیں۔ یہ کاریگر کئی سالوں سے یہاں مقیم ہیں۔ ان میں اٹک کے حاجی نور محمد بھی شامل ہیں جو گزشتہ پینتیس سال سے درہ آدم خیل میں اسلحہ بنانے کا کام کرتے ہیں اور آجکل ایک اسلحہ ساز فیکٹری کے مالک ہیں۔

حاجی نور
درہ میں اسلحہ کے ڈیلر اسلحہ سازی میں مصروف ہیں

حاجی نور محمد نے بتایا کہ اسلحہ کی قیمتوں کے بڑھنے کی بنیادی وجوہات میں ایک وجہ اس کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال اور مشینری کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہے۔

ان کے مطابق ’پہلے ہم خام مال چار ہزار روپے فی ٹن خریدتے تھے لیکن اب اسکی قیمتیں پچاس اور ساٹھ ہزار روپے فی ٹن تک پہنچ گئیں ہیں۔ اسلحہ کی تیاری میں پیتل، تانبا، ایلومینیم ، ریتی اور کٹر کا بڑا استعمال ہوتا ہے جبکہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ان سب چیزوں کی قیمتیں بڑھی ہیں۔

دوسری طرف اسلحہ کے ساتھ ساتھ دھماکہ خیز مواد میں استعمال ہونے والے بارود کے قیمتیں بھی بڑھی ہیں بلکہ مارکیٹ میں اس کی مانگ میں اضافہ کے باعث اس کی قلت بھی پیدا ہوگئی ہے۔

ایک اسلحہ ڈیلر محمد جاوید کے مطابق بارود زیادہ تر بم اور کارتوس کی تیاری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے ایک کلو گرام بارود کی قیمت چار سو سے پانچ سو روپے تھی لیکن آجکل یہ قیمت پندرہ سو سے دو ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بارود کی قلت کے باعث اب مارکیٹ میں ناقص مواد فروخت ہو رہا ہے۔

اس نیم خودمختار قبائلی علاقے میں غیر قانونی طورپر تیار ہونے والے اسلحہ کا کاروبار کئی سالوں سے ہو رہا ہے اور حکومت اس کی خرید و فروخت پر نظر رکھنے کے حوالے سے بے بس نظر آتی ہے۔

اسی بارے میں
’دوزخی‘ مارکیٹ میں دھماکہ
02 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد