BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 June, 2007, 11:29 GMT 16:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حملہ آوروں کا تعلق درے سے نہیں‘

تنظیم نےالطاف حسین کو برطانیہ سے ملک بدر کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے درہ آدم خیل کی ایک نمائندہ تنظیم نے محکمۂ داخلہ سندھ کے اس بیان پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے جس میں خود کش حملے کرنے والے گروہ کا تعلق اس علاقے سے بتایا گیا ہے۔

صوبہ سندھ کے محمکۂ داخلہ نے چند روز قبل ایک بیان میں الزام لگایا تھا کہ ملک میں خودکش حملوں میں درہ آدم خیل کا ایک گروہ امان اللہ اور مفتی الیاس نامی اشخاص کی سربراہی میں سرگرم ہے۔

تاہم قومی تحریک درہ آدم خیل کے صدر حاجی سید وزیر آفریدی نے اتوار کو درہ آدم خیل میں ایک اخباری کانفرنس میں اس الزام کی تردید کی اور اسے سندھ حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نام کا کوئی گروہ ان کے علاقے میں موجود نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بارہ مئی کو پرتشدد کارروائیاں روکنے میں ناکامی کے بعد اب سندھ حکومت اس کی ذمہ داری ادھر ادھر ڈال رہی ہے۔ ان کے بقول یہ بیان قبائلیوں کو بدنام کرنے کی ایک سازش کا حصہ ہے۔

انہوں نے سندھ حکومت سے مستعفی ہونے اور کراچی میں بارہ مئی کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے برطانوی حکومت سے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ٹانک ایک اکھاڑہ
’یہ شہر پل بھر میں قبائلی علاقہ بن سکتا ہے‘
شہریوں نے کیا دیکھا
’ٹانک میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہا تھا‘
دھماکوں کی کڑیاں
سرحد دھماکوں پر پولیس تحقیقات کے نتائج
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد