’حملہ آوروں کا تعلق درے سے نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے درہ آدم خیل کی ایک نمائندہ تنظیم نے محکمۂ داخلہ سندھ کے اس بیان پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے جس میں خود کش حملے کرنے والے گروہ کا تعلق اس علاقے سے بتایا گیا ہے۔ صوبہ سندھ کے محمکۂ داخلہ نے چند روز قبل ایک بیان میں الزام لگایا تھا کہ ملک میں خودکش حملوں میں درہ آدم خیل کا ایک گروہ امان اللہ اور مفتی الیاس نامی اشخاص کی سربراہی میں سرگرم ہے۔ تاہم قومی تحریک درہ آدم خیل کے صدر حاجی سید وزیر آفریدی نے اتوار کو درہ آدم خیل میں ایک اخباری کانفرنس میں اس الزام کی تردید کی اور اسے سندھ حکومت کی بوکھلاہٹ کا ثبوت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نام کا کوئی گروہ ان کے علاقے میں موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارہ مئی کو پرتشدد کارروائیاں روکنے میں ناکامی کے بعد اب سندھ حکومت اس کی ذمہ داری ادھر ادھر ڈال رہی ہے۔ ان کے بقول یہ بیان قبائلیوں کو بدنام کرنے کی ایک سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت سے مستعفی ہونے اور کراچی میں بارہ مئی کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے برطانوی حکومت سے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ |
اسی بارے میں پی اے خیبر سے جرگے کی ملاقات 08 June, 2007 | پاکستان پی اے خیبر کے گھر پر حملہ، تیرہ ہلاک31 May, 2007 | پاکستان ’ملا نذیر طالبان تحریک سے خارج‘05 June, 2007 | پاکستان داد اللہ دفن، ایک مغوی قتل، چار رہا07 June, 2007 | پاکستان ’طالبان القاعدہ سے زیادہ خطرناک‘12 September, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||